افغانستان: طالبان کے حملوں میں 28 پولیس اہلکار ہلاک

24 ستمبر 2020

ای میل

پولیس اہلکاروں کی مدد کے لیے اضافی نفری چیک پوائٹس پر وقت پر نہ پہنچ سکی — فائل فوٹو / رائٹرز
پولیس اہلکاروں کی مدد کے لیے اضافی نفری چیک پوائٹس پر وقت پر نہ پہنچ سکی — فائل فوٹو / رائٹرز

افغانستان کے جنوبی حصے میں طالبان کے سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر رات گئے متعدد حملوں میں 28 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اروزگان صوبے کے گورنر کے ترجمان زیلگئی عابدی نے کہا کہ طالبان کے جنگجوؤں نے منگل کی رات 28 مقامی اور قومی پولیس اہلکاروں کو پیشکش کی کہ اگر وہ سرینڈر کر دیں تو انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی جائے گی، تاہم ان سے ہتھیار لینے کے بعد طالبان نے تمام اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف احمدی نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح گروپ نے علاقے کی پولیس کی جانب سے جنگوؤں کے سامنے سرینڈر نہ کرنے پر انہیں ہلاک کیا۔

ایک اور مقامی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کے حملوں میں کم از کم 28 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 3 فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

پولیس اہلکاروں کی مدد کے لیے اضافی نفری چیک پوائٹس پر وقت پر نہ پہنچ سکی تاہم زیلگئی عابدی نے کہا کہ بعد ازاں افغان سیکیورٹی فورسز نے چیک پوائنٹس کا دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان سے جھڑپوں میں سیکیورٹی فورسز کے 57 اہلکار ہلاک

واضح رہے کہ دو روز قبل افغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں افغان سیکیورٹی فورسز کے 57 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ایک ہفتے قبل مذاکرات کے آغاز کے بعد یہ سب سے زیادہ پرتشدد دن تھا۔

وسطی صوبے اروزگان کے نائب گورنر سید محمد سعادت نے کہا کہ اتوار کو رات گئے صوبے میں طالبان جنگجوؤں کے سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر حملے میں افغان سیکیورٹی فورسز کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے۔

اسی طرح صوبائی حکام نے بتایا کہ بغلان، تخار، ہلمند، کاپیسا، بلخ، میدان وردک اور قندوز صوبوں میں بھی جھڑپیں ہوئیں اور وہاں بھی جانی نقصان ہوا۔

خیال رہے کہ 12 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں مذاکرات کے آغاز کے بعد طالبان اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیمیں ملاقاتیں کر رہی ہیں، لیکن اب تک معاملات زیادہ آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔

مزید پڑھیں: دوحہ: افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کا آغاز

مذاکراتی ٹیموں کے درمیان دوحا میں تقریباً روز ہونے والی ملاقاتوں میں اب تک امن عمل کے قواعد و ضوابط پر ہی بحث ہو رہی ہے اور بیشتر اہم معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں بین الافغان مذاکرات طے پائے تھے، اس وقت اس معاہدے کو 40 سال سے جاری جنگ میں امن کا بہتری موقع قرار دیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ 29 فروری کو معاہدے کے چند ہفتوں میں مذاکرات کا آغاز ہوجائے گا تاہم شروع سے ہی اس ٹائم لائن میں تاخیر کے باعث خلل پڑنا شروع ہوگیا تھا۔

امریکا کے ساتھ ہوئے طالبان کے معاہدے میں سے قبل ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ افغان حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ طالبان بدلے میں ایک ہزار حکومتی اور عسکری اہلکاروں کو اپنی حراست سے چھوڑیں گے تاہم اس میں مسائل کا سامنا رہا اور افغان حکومت اس سے گریز کرتی نظر آئی۔

مزید یہ کابل میں جاری سیاسی بحران نے مذاکرات کو مزید تاخیر کا شکار بنادیا کیونکہ وہاں افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے متنازع صدارتی انتخابات میں ایک دوسرے پر فتح کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی افغانستان میں طالبان کا حملہ، 14افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک

بعد ازں اس بحران کو ختم کرنے کے لیے اختیارات کے تبادلے کے معاہدے کے حصے کے طور پر عبداللہ عبداللہ کو امن مذاکرات کی نگرانی کرنے والی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کا سربراہ نامزد کردیا گیا۔

تاہم اس کے بعد طالبان کی جانب سے تشدد کم کرنے سے انکار نے مذاکرات کے آغاز میں مزید رکاوٹ ڈال دی۔

بعد ازاں دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی بھی دیکھنے میں آئی تھی اور طالبان کے 6 قیدیوں کی آخری رکاوٹ دور ہونے کے بعد قطر کی وزارت خارجہ نے مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔