فضل الرحمٰن کے قریبی ساتھی موسیٰ خان گرفتار، 6 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2020

ای میل

موسیٰ خان مولانا فضل الرحمٰن کے قریبی ساتھی ہیں—فائل فوٹو: سراج الدین
موسیٰ خان مولانا فضل الرحمٰن کے قریبی ساتھی ہیں—فائل فوٹو: سراج الدین

پشاور کی احتساب عدالت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے گرفتار رہنما موسیٰ خان کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیا۔

نیب کی جانب سے گزشتہ شب گرفتار کیے گئے جے یو آئی (ف) کے رہنما کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

موسیٰ خان، جو جے یو آئی (ف) کے تحصیل پہاڑ پور کے امیر بھی ہیں، انہیں آمدن سے زائد اثاثے کے کیس کی انکوائری میں شامل کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے ان کے بیٹے اور سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن کے ذاتی سیکریٹری طارق کا کہنا تھا کہ ان کے والد موسیٰ خان کو گزشتہ شب اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ڈیرہ اسمٰعیل خان سے پشاور جارہے تھے جبکہ انہوں نے وہاں نیب کے سامنے پیش ہونا تھا۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثے: نیب نے مولانا فضل الرحمٰن کو طلب کرلیا

طارق کا کہنا تھا کہ احتساب کے ادارے نے ان کے والد کو مذکورہ کیس سے متعلق سوال نامہ بھیجا تھا اور اس کے جواب جمع کرانے کے لیے وہ پشاور جارہے تھے۔

علاوہ ازیں احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے آج انہیں پیش کیا گیا، جہاں ان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا اور انہیں 30 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

دوسری جانب ایک بیان میں جے یو آئی (ف) کے خیبرپختونخوا کے ترجمان حاجی جلیل جان نے موسیٰ خان کی گرفتاری کو 'سیاسی انتقام' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ موسیٰ خان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ نیب کے سامنے پیش ہونے کے لیے جارہے تھے، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ 'تعاون کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے کے پیچھے کیا وجہ ہے'۔

جلیل جان کا کہنا تھا کہ نیب 'لوگوں کو اپوزیشن شخصیات کے ساتھ وابستگی رکھنے کی وجہ سے گرفتار' کر رہا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ایسے موقع پر جب فضل الرحمٰن سے متعلق نیب انکوائری کر رہا ہے موسیٰ خان کی گرفتاری سے کیا پیغام دینا چاہا ہے۔

ادھر مولانا فضل الرحمٰن کو نیب میں طلب کیے جانے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی تک کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، نوٹس موصول ہونے کے بعد پارٹی فیصلہ کرے گی کہ آیا فضل الرحمٰن پیش ہوں گے یا نہیں۔

خیال رہے کہ موسیٰ خان کی گرفتاری ایسے وقت پر سامنے آئی جب 2 روز قبل نیب نے مولانا فضل الرحمٰن کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر شروع کی گئی انکوائری میں آئندہ ماہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔

مذکورہ نوٹس قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 19 کے تحت جاری کیا گیا تھا اور اسے فضل الرحمٰن کی ڈیرہ اسمٰعیل خان کی رہائش گاہ پر بھیجا گیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن کو نیب کا نوٹس اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بعد سامنے آیا تھا، مذکورہ کانفرنس میں ایک 'عملدرآمد پلان' کے تحت 3 مرحلوں میں حکومت مخالف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے 'غیر قانونی اثاثوں' کے معاملے پر مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی کو طلب کرلیا

جس میں آئندہ ماہ سے ملک بھر میں عوامی ملاقاتیں، دسمبر میں مظاہرے اور ریلیاں جبکہ جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک 'طویل لانگ مارچ' شامل ہے۔

ادھر پاکستان پیپلزپارٹی نے فضل الرحمٰن کو نیب میں طلب کرنے کی رپورٹس پر مذمت کا اظہار کیا اور ایک بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'عمران خان نیب کے ذریعے اپوزیشن کے سیاست دانوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں'۔

یاد رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے مسلسل حکومت پر نیب کو احتساب کے نام پر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف استعمال کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے اور اس کے چیئرمین کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے خود مقرر کیا تھا۔

اس سے قبل نیب کے خیبرپختونخوا کے دفتر نے اسی طرح کا ایک نوٹس فضل الرحمٰن کے بھائی کو جاری کیا تھا، جو صوبائی حکومت کے ایک افسر ہیں، ساتھ ہی انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ غیرقانونی اثاثوں سمیت مختلف الزامات پر ہونے والی تحقیقات میں سی آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔