فارن فنڈنگ کیس میں ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی نے دوبارہ کام شروع کردیا

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

اسکروٹنی کمیٹی کو دی جانے والی مدت اکتوبر میں ختم ہوگی—فائل فوٹو: اے ایف پی
اسکروٹنی کمیٹی کو دی جانے والی مدت اکتوبر میں ختم ہوگی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی اسکروٹنی کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فارن فنڈنگ کیس سے جڑے دستیاب مواد کی تصدیق کے تناظر میں پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ای سی پی کی جانب سے مذکورہ معاملے پر اس کی رپورٹ کو نامکمل اور حتمی رائے کے فقدان کی وجہ سے مسترد کردیا گیا تھا اور ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 6 ہفتوں کے اندر ایک نئی اور جامع رپورٹ جمع کروائے، جس کے بعد اب جمعرات کو کمیٹی نے دوسری ملاقات کی۔

ای سی پی کی جانب سے اپنے 27 اگست کے حکم میں دی جانے والی مدت اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ختم ہوجائے گی۔

مسترد ہونے والی اسکروٹنی (جانچ پڑتال) رپورٹ کو 70 اجلاسوں اور ڈھائی سال کے غور و غوص کے بعد تیار کیا گیا تھا حالانکہ ابتدائی طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ ایک ماہ کے اندر تیار ہوگی۔

مزید پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ مسترد کردی

اس کیس کے درخواست گزار اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر جانچ پڑتال کے عمل میں شفافیت اور اس کی ساکھ کو مسلسل چیلنج کرتے رہے ہیں۔

ای سی پی کے 27 اگست کے حکم نے ان خدشات کو درست کیا اور کمیٹی کو پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی ایک جامع اور حتمی جانچ پڑتال کرنے کا کہا گیا۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ حالیہ اجلاس میں کمیٹی نے اکبر ایس بابر کی جانب سے جمع کرائے گئے ان شواہد کی تصدیق کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کام کا آغاز کیا، جس میں پی ٹی آئی ملازمین کے نجی بینک اکاؤنٹس میں مبینہ غیرقانونی فنڈنگ، منی لانڈرنگ، بینک اکاؤنٹس کو چھپانے اور رقوم کی وصولی کے شواہد شامل ہیں۔

ادھر بابر اقبال چوہدری کے تعاون سے درخواست گزار کے وکیل سید احمد حسن شاہ نے شواہد کی صداقت کی تصدیق کی ایک مرتبہ پھر کوشش کی، یہ وہ عمل ہے جو یہ نومبر 2014 میں کیس کی شروعات کے آغاز سے ایک درجن سے زائد مرتبہ کرچکے ہیں۔

وہیں ای سی پی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ درخواست گزار کی جانب سے سماعتوں کے دوران متاثر کن التجا کی گئی کہ آگے کا عمل گزشتہ ڈھائی برسوں سے مختلف ہونا چاہیے، مزید یہ کہ جب پرانی حکمت عملی ناکام ہوگئی تو معتبر نتائج حاصل کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عمل کو اپنانا چاہیے۔

اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اپنے قومی اور بین الاقوامی اکاؤنٹس میں موصول ہونے والے ہر ایک پیسے کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے کیونکہ اس میں سے زیادہ تر چھپایا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ہر پہلو کا پتا لگانا ضروری ہے، بشمول پی ٹی آئی ملازمین کے نجی بینک اکاؤنٹس کا جو 'غیرقانونی عطیات موصول کرنے میں فرنٹ پر استعمال ہوتے رہے'۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'یہ صرف تب ہوسکتا ہے جب پروفیشنل آڈٹرز تفصیلی فرانزک آڈٹ کریں' بصورت دیگر پہلے ناکام ہونے والے عمل کو دوبارہ شروع کرنا صرف میگا اسکینڈل کے پیمانے اور اسکیل کا پتا لگانے میں مزید ناکامی کا باعث بنے گا۔

علاوہ ازیں کمیٹی نے اجلاس کی نئی تاریخ مقرر کیے بغیر ہی سماعت کو ملتوی کردیا، نئی تاریخ کے بارے میں بعد میں بتایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس پر رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کروانے کی ہدایت

یہ تصور کیا جارہا ہے کہ کمیٹی آئندہ 2 ہفتوں میں اسکروٹنی کے اس عمل نکو مکمل کرنے والی ہے جو 29 مہینوں میں مکمل نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے ایک درجن سے زائد غیرقانونی بینک اکاؤنٹس رکھے جو ریکارڈ پر ہے۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک کی ہدایت پر شیڈول بینکوں کی جانب سے ای سی پی کو جمع کروائی گئی رپورٹس میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ پی ٹی آئی ملک بھر میں کم از کم 18 غیر اعلانیہ (ظاہر نہ کیے ہوئے) بینک اکاؤٹنس چلا رہی ہے۔

ان میں سے کراچی میں 2 اور پشاور اور کوئٹہ میں ایک ایک کاؤنٹس کے ساتھ ان غیراعلانیہ بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کو ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی سے اکتوبر 2018 میں اس وقت شیئر کیا گیا تھا جب اس کمیٹی کی سربراہی کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل (قانون) کر رہے تھے۔