امریکی جج کا ٹک ٹاک پر پابندی کے حکم پر اطلاق روکنے کا عندیہ

25 ستمبر 2020

ای میل

ٹک ٹاک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 19 ستمبر کو جاری کردہ  پابندی کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز
ٹک ٹاک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 19 ستمبر کو جاری کردہ پابندی کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن: امریکا کے ایک جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کے نئے ڈاؤن لوڈز پر پابندی میں تاخیر کرنے پر زرو دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ وہ 27 ستمبر سے لاگو ہونے والے حکومتی فیصلے کو لاگو ہونے سے روک سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ٹک ٹاک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 19 ستمبر کو جاری کردہ پابندی کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، ان کے مطابق اگر یہ فیصلہ عارضی ہو تب بھی اس سے ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ امریکا میں اس کے 10 کروڑ کے قریب صارفین موجود ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کےمطابق جج کارلس نکولس نے ٹیلیفون پر کی گئی سماعت میں مذکورہ بیان دیا۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک کے امریکی کمپنیوں کے معاہدے میں کیا کچھ شامل ہے؟

جج نے فوری سماعت کے حوالے سے ٹک ٹِک کے وکلاء سے اتفاق کی تھا اور کہا کہ وہ اتوار27 ستمبر کو پابندی کے اطلاق سے قبل فیصلہ سنادیں گے۔   جج کارلس نکولس نے کہا کہ وہ حکومتی وکلا کے دعووں سے متفق نہیں ہیں جن کے مطابق پابندی، جو فوری طور پر ٹک ٹاک کے استعمال کو نہیں روکے گی بلکہ نئے صارفین کی جانب سے ڈاؤن لوڈز اور اپ ڈیٹیس کو روکنے میں مدد فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہوں گا (امریکا) کی حکومت اپنے مؤکل کے ساتھ پیش ہو۔   جج نے امریکی محکمہ انصاف کے وکلا سے کہا کہ وہ جمعہ( 25 ستمبر ) تک عندیہ دیں کہ وہ پابندی ملتوی کرنے پر راضی ہیں اگر ایسا نہیں تو وہ خود دونوں فریقین کا مختصرجائزہ لیں گے اور ٹک ٹاک کی جانب سے عارضی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کا اطلاق روکنے سے متعلق درخواست پر کوئی فیصلہ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا کا ’وی چیٹ‘ اور ’ٹک ٹاک‘ بند کرنے کا اعلان

عدالت میں جمع کروائے گئی درخواست میں میں ٹک ٹاک کی عبوری سربراہ وینیسا پیپاس نے کہا کہ مجوزہ پابندی دنیا بھر میں معروف پلیٹ فارم کے لیے تباہ کن ہوگی۔   انہوں نے کہا کہ پابندی سے ہمارے صارفین کی تعداد جمود کا شکار ہوگی اور پھر اس میں کمی آنا شروع ہوجائے گی۔

ٹک ٹاک کی عبوری سربراہ کا کہنا تھا کہ نئے صارفین ٹک ٹاک جیسی سوشل میڈیا ایپلی کیشن کے لیے ضروری ہیں، نئے صارفین کے بغیر ہم دیگر پلیٹ فارمز کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یکم جولائی کو پابندی کی افواہیں گردش کرنا شروع ہوئیں تو ٹک ٹاک میں یومیہ 4 لاکھ 24 ہزار نئے امریکی صارفین شامل ہورہے تھے۔

وینیسا پیپاس نے کہا کہ نئے امریکی صارفین کی شمولیت کے خاتمے سے ہماری گروتھ سست ہوجائے گی اور فوری طور پر مارکیٹ شیئر بھی کم ہوجائیں گے۔

ٹک ٹاک کی درخواست میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا کہ امریکی صدر اس لیے پابندی عائد کررہے ہیں کیونکہ رپورٹس ہیں کہ ایپ ان کے ناقدین کی جانب سے تکسا میں ہونے والی ٹرمپ ریلی کے ٹکٹس کے حصول کے لیے استعمال کی گئی تھی جو اس ریلی میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

تاہم شرکا کی تعداد میں نمایاں کمی کی وجہ سے یہ ریلی بری طرح ناکام ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر پابندیوں کے احکامات جاری کردیے

یاد رہے کہ ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ اگست میں 2 مختلف ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے وی چیٹ اور ٹک ٹاک کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات میں ٹک ٹاک کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ اپنے امریکی شیئرز 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا۔

اسی طرح وی چیٹ کو بھی بتایا گیا تھا کہ وہ بھی اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کو 45 دن میں فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بھی بند کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹک ٹاک‘ امریکا میں ’اوریکل‘ کے ساتھ کام کرنے پر رضامند

امریکی صدر کی دھمکی کے بعد متعدد امریکی کمپنیوں نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ کے امریکی اثاثے خریدنے کی دلچسپی بھی ظاہر کی تھی اور بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی کمپنیوں کو مزید 45 دن کی مہلت دی تھی۔

بعدازاں ٹک ٹاک کے حوالے سے خبر سامنے آئی تھی کہ شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن امریکی کمپنی اوریکل کے ساتھ پارٹنر شپ بنیادوں پر امریکا میں کام کرنے کے لیے رضامند ہوگئی تھی۔

تاہم امریکی حکومت نے وی چیٹ کو 20 ستمبر سے جبکہ ٹک ٹاک کو 12 نومبر سے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق ٹک ٹاک کو 12 نومبر تک انٹرنیٹ کے حفاظتی انتظامات کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم مقررہ مدت کے بعد اس پر پابندی لگائی جائے گی۔