جہانگیرترین کے شوگر مل آفس پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2020

ای میل

جہانگیرترین اس وقت 'لندن میں زیر علاج ہیں'—فائل فوٹو: ڈان نیوز
جہانگیرترین اس وقت 'لندن میں زیر علاج ہیں'—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور: مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) کی ٹیم نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ’ناراض‘ رہنما جہانگیر ترین کی شوگر مل کے ہیڈ آفس پر چھاپہ مار کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ چھاپہ ایسے وقت پر مارا گیا جب پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل نے حالیہ دنوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے متعدد مرتبہ طلب کیے جانے پر اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا۔

مزیدپڑھیں: چینی کی برآمد، قیمت میں اضافے سے جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، رپورٹ

خیال رہے کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) واجد ضیا کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے شوگر ملز کو عوامی رقم کا غلط استعمال اور کارٹلائزیشن کا مجرم پایا تھا جس کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا تھا۔

علاوہ ازیں مسابقتی کمیشن پاکستان شوگر ملرز کے کارٹلائزیشن کی بھی تحقیقات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں پنجاب کے دارالحکومت میں جمال دین ولی (جے ڈی ڈبلیو) ملز ہیڈکوارٹرز کے ہیڈ آفس پر چھاپہ مارا گیا اور اس کا ریکارڈ ضبط کرلیا گیا۔

اس سے قبل اتھارٹی نے 14 ستمبر کو وفاق اور پنجاب کے دارالحکومتوں میں پاکستان شوگر مل ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے دفاتر کے ریکارڈ کا معائنہ کیا تھا اور ریکارڈ کی کچھ کاپیاں اور کمپیوٹر فائلیں ضبط کی تھیں۔

اس حوالے سے سی سی پی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پی ایس ایم اے اور جے ڈی ڈبلیو ملز کے ایک سینئر عہدیدار کے مابین ای میل کا تبادلہ ہوا جس میں مل اور ضلعی سطح پر شوگر اسٹاک کی پوزیشن اور یہاں تک کہ گنے کی کرشنگ کا حجم، چینی کی پیداوار، بحالی جیسی حساس تجارتی معلومات ملی ہیں۔

مزیدپڑھیں: شوگر اسکینڈل: برطانیہ سے واپسی پر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں گا، جہانگیرترین

سی سی پی عہدیدار نے بتایا کہ پی ایس ایم اے کے واٹس ایپ گروپ کے معائنہ سے انکشاف ہوا ہے کہ جے ڈی ڈبلیو گروپ کا وہی سینئر عہدیدار چینی کی قیمتوں اور اسٹاک کے اعداد و شمار کے بارے میں جانتا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ایس ایم اے سے ضبط کے گئے ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسی عہدیدار کو پی ایس ایم اے نے شوگر اسٹاک کی پوزیشن کے لیے 2012 میں فوکل پرسن کے طور پر مقرر کیا تھا اور وہ چینی کی صنعت کے بارے میں حساس معلومات جانتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سی سی پی کو خدشہ ہے کہ چینی کی قیمتوں، مقدار اور اسٹاک کی پوزیشنز کے بارے میں اہلکار کی جانب سے حساس معلومات شیئر کرنے سے 'مسابقتی ایکٹ' کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

قبل ازیں ایف آئی اے میں جمع کرائے گئے جہانگیرترین کے جواب کے مطابق جے ڈی ڈبلیو گروپ میں ان کے 20 فیصد شیئرز ہیں۔

خیال رہے کہ جہانگیرترین اس وقت 'لندن میں زیر علاج ہیں'۔

جہانگیرترین کے ایک قریبی ساتھی نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی اور ایف آئی اے کی طرح سی سی پی بھی وہی سوالات اٹھا رہی تھی جس کا جے ڈی ڈبلیو گروپ نے 'جامع' جواب دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شوگر سبسڈی اسکینڈل: جے آئی ٹی نے جہانگیر ترین، علی ترین کو طلب کرلیا

برطانیہ میں موجود پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر ترین نے شوگر اسکینڈل میں ایف آئی اے کو اپنا مختصر جواب جمع کرادیا تھا جس میں انہوں نے ایف آئی اے کی انکوائری سے متعلق مزید وقت مانگا تھا۔

ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کے ملک اور بیرون ملک اثاثوں، ان کے بینک لین دین، خاص طور پر بیرون ملک رقم کی منتقلی، ان کے خاندان اور اس کے ملازمین کے بینک اکاؤنٹس اور ان کی فرم جے ڈی ڈبلیو کے شوگر سے متعلق لین دین کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

چینی بحران کی تحقیقات اور کارروائی کا معاملہ

ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: حکومت نے شوگر کمیشن کیخلاف سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا

بعد ازاں حکومت چینی بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ 21 مئی کو سامنے لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔

چنانچہ 7 جون کو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کی برآمد، قیمت میں اضافے سے جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، رپورٹ

17 اگست کو سندھ ہائی کورٹ نے چینی بحران کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کے تشکیل کردہ شوگر انکوائری کمیشن اور اس کی رپورٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے کمیشن کو غیر قانونی قرار دینے کی 8 وجوہات کا ذکر کیا جس میں ضروری قواعد و ضوابط پر عمل کرنے میں ناکامی، کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بروقت گزیٹ میں شائع نہ ہونا، کمیشن کی نامکمل تشکیل، کمیشن کی جانبداری اور درخواست گزاروں کو صفائی کا موقع نہ دینا شامل ہیں۔

جس کے بعد 27 اگست کو وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شوگر کمیشن کی تشکیل اور اس کی رپورٹ کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ہائی کورٹ نے مکمل طور پر تکنیکی بنیادوں پر کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جبکہ کمیشن کے ساتوں اراکین کی تعیناتی کو وفاقی کابینہ نے منظور کرلیا تھا۔

درخواست میں چینی کے شوگر ملز مالکان کے ساتھ ساتھ کے اثاثہ جات برآمدگی یونٹ (اے آر یو) کے سربراہ شہزاد اکبر کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسی شوگر مینوفیکچرر نے کمیشن کی کارروائی کی معلومات نہ ہونے کا دعویٰ کیا نہ کرسکتا ہے جس کے لیے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایچن (پی ایس ایم اے) سے مکمل طور پر رابطہ تھا۔