بلوچستان میں پرائمری اسکولز کھولنے کا فیصلہ 15 روز کیلئے مؤخر

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2020

ای میل

لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ جن تعلیمی اداروں میں کورونا وائرس کیسز سامنے آئے انہیں سیل کردیا گیا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ جن تعلیمی اداروں میں کورونا وائرس کیسز سامنے آئے انہیں سیل کردیا گیا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں پرائمری اسکول کھولنے کو 15 روز کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ صوبے کے تعلیمی اداروں میں کچھ کورونا کیسز سامنے آئے ہیں اس لیے پرائمری اسکول کھولنے کو مزید 15 روز کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو صوبے میں پرائمری اسکول کھولنے میں 15 روز کی تاخیر کی تجویز دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ جن تعلیمی اداروں میں کورونا وائرس کیسز سامنے آئے انہیں سیل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں دوسرے مرحلے میں 21ستمبر سے اسکولز نہ کھولنے کا فیصلہ

ترجمان صوبائی حکومت نے خبردار کیا کہ جو افراد تعلیمی اداروں میں بغیر فیس ماسک لگائے داخل ہوں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان علیانی نے صوبے میں کووڈ 19 کے بڑھتے ہوئے کیسز پر خبردار کیا ہے کیونکہ اس وبائی مرض کی دوسری لہر آنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ ایس او پیز کا خیال رکھیں جس میں فیس ماسک پہننا، سماجی فاصلہ رکھنا اور بار بار ہاتھ دھونا شامل ہے۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ جن تعلیمی اداروں میں 2 یا اس سے زائد کورونا کیسز سامنے آئے انہیں بند کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان میں کل سے مڈل اسکولز کھولنے کا اعلان

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے تقریباً ساڑھے 6 ماہ سے بند تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے پہلے مرحلے میں کھولے گئے تھے۔

حکومت نے 15 ستمبر سے 9ویں، دسویں اور دیگر جماعتیں، 23 ستمبر سے 6 سے 8ویں جماعت جبکہ 30 ستمبر سے پرائمری جماعتوں کے لیے تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم ان فیصلوں کو وبا کی صورتحال کے جائزے سے مشروط کیا تھا۔

چنانچہ پہلے 15 ستمبر سے میٹرک کی جماعتوں کے لیے اسکول کھولے گئے بعدازاں این سی او سی کی جانب سے دوسرے مرحلے میں اسکول کھولنے کی اجازت ملنے کے بعد سندھ کے سوا تمام صوبوں میں مڈل اسکولز بھی کھول دیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر صحت سندھ نے کورونا کے خاتمے تک پرائمری اور مڈل اسکول کھولنے کی مخالفت کردی

تاہم سندھ میں کورونا کیسز میں اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دوسرے مرحلے کے اسکول نہیں کھولے گئے تھے، بعدازاں 28 ستمبر سے تمام جماعتوں کے لیے تعلمی سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ مجھے اسکول کھولنے پر بہت تشویش ہے، بچے بہت کمزور اور غیرمحفوظ ہوتے ہیں اور اس کورونا کی وبا کے دوران خصوصاً پرائمری، جونیئر اور مڈل اسکول کے بچوں کا اسکول جانا نہایت خطرناک ہے۔