وفاقی کابینہ کا اجلاس، 'حکومت ہر سال 10 ارب ڈالر کے قرضے واپس کر رہی ہے'

اپ ڈیٹ 30 ستمبر 2020

ای میل

اجلاس میں مالی سال 2018 سے 2020 میں حکومتی قرضوں اور ان کی واپسی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی —فائل فوٹو: اےایف پی
اجلاس میں مالی سال 2018 سے 2020 میں حکومتی قرضوں اور ان کی واپسی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی —فائل فوٹو: اےایف پی

وفاقی کابینہ کے جلاس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالر کے حساب سے قرضے واپس کیے جا رہے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے 'اے پی پی' کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ 3 کروڑ بچوں پر مشتمل اسکولوں میں تعلیم کا سلسلہ 30 ستمبر سے بحال ہو جائے گا جبکہ کورونا کے خلاف حفاظتی تدابیر بشمول ماسک کے استعمال پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ، وزیراعظم کے ریپسٹ کو سر عام پھانسی دینے کے نقطہ نظر کی حامی

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مالی سال 2018 سے 2020 میں حکومتی قرضوں اور ان کی واپسی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ موجودہ حکومت کو 30 کھرب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا جس کی قسطیں ادا کرنے اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے حکومت کو مزید قرضے لینے پڑے جبکہ بیرونی قرضوں کی مد میں حکومت نے تقریباً 24 ارب ڈالر قرضہ حاصل کیا جس میں سے 2 ارب ڈالر عبوری دور حکومت میں اٹھایا گیا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ بیرونی قرضوں کی مد میں گزشتہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریباً ساڑھے 5 ارب ڈالر کی شرح سے قرضے واپس کیے جاتے تھے لیکن موجودہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالر کے حساب سے قرضے واپس کیے جا رہے ہیں، جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے تقریباً ایک کھرب روپے کی آمدن متاثر ہوئی۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ نے مسافر کشتیاں چلانے کی اجازت دے دی ہے، علی زیدی

اجلاس کو توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات خصوصاً گردشی قرضوں میں کمی لانے پر بریفنگ دی گئی اور آگاہ کیا گیا کہ ماضی کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مالی سال 2018 میں سالانہ گردشی قرضہ 450 ارب روپے تھا اور اگر موجودہ حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات نہ کیے جاتے تو سال 2020 میں یہ قرضہ 853 ارب روپے ہوتا اور 2023 میں اس میں 1610 ارب روپے کا اضافہ ہوتا۔

علاوہ ازیں کابینہ نے برطانوی ائیرلائن 'ورجن اٹلانٹک' کو پاکستان اور برطانیہ کے مابین پروازوں کے آغاز کی منظوری دی۔

مذکورہ منظوری پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ائیر سروس معاہدے کے تحت دی گئی ہے اور معاہدے کی تحت اب تک برطانیہ سے برٹش ایئر ویز جبکہ پاکستان سے پی آئی اے، ایئربلیو اور شاہین ایئر کو دونوں ملکوں کے درمیان پروازوں کی اجازت ملی ہوئی تھی۔

اجلاس میں منظوریاں

کابینہ نے ٹی سی پی کی جانب سے درآمد کی جانے والی گندم کے حوالے سے پری شپمنٹ ایجنسیوں کو پری شپمنٹ انسپیکشن کی ون ٹائم منظوری دی۔

افغانستان کے حوالے سے مجوزہ ویزا پالیسی کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے آمنہ بی بی کو بطور اینلسٹ فار بائیولوجیکل ڈرگز تعینات کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020 کے تحت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر اور نائب صدر (ڈاکٹر ارشد تقی اور علی رضا) کی تعیناتی کی منظوری دی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں جیل کی تعمیر کا فیصلہ عدلیہ کے سپرد

کابینہ نے سید حسین عابدی کو چئیرمین پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اسلام آباد تعینات کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے چیف ایگزیکیٹو افسر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کی بطور سی ای او تعیناتی کی ایکس پوسٹ فیکٹو (بعد از عمل) منظوری دی۔

کابینہ نے سیکریٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا کو اسلام آباد کلب کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 23 ستمبر 2020 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 24 ستمبر کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی۔