پاک فوج کے آرمینیا کے خلاف لڑنے کی رپورٹس بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2020

ای میل

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نیگورونو کاراباخ کے حوالے سے آذربائیجان کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نیگورونو کاراباخ کے حوالے سے آذربائیجان کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان نے نیگورنو کارا باخ میں پاک فوج کے آرمینیا کی فوج کے خلاف لڑنے سے متعلق میڈیا رپورٹس مسترد کردیں۔

خیال رہے کہ بھارتی نشریاتی ادارے ٹائمز ناؤ انڈیا اور کچھ دیگر میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا وزیراعظم عمران خان نے متنازع علاقے میں آذربائیجان اور ترکی کی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے پاکستانی فوج کے دستے روانہ کیے ہیں۔

ان رپورٹس میں اس علاقے سے تعلق رکھنے والے 2 افراد کے مابین ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں پاکستانی فوج کی موجودگی کا ذکر تھا۔

تاہم ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان رپورٹ کو بے بنیاد اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی رپورٹس اور اطلاعات انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی آذربائیجان کے ضلع توزو پر آرمینیا کے حملے کی مذمت

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو نیگورنو کاراباخ کے خطے میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر سخت تشویش ہے۔

ترجمان نے کہا کہ آذربائیجان کی شہری آبادی پر آرمینیائی فوج کی جانب سے بھاری گولہ باری قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے بچنے کے لیے آرمینیا کو اپنی کارروائیاں روکنی ہوں گی۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نیگورونو کاراباخ کے حوالے سے آذربائیجان کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیگورونو کاراباخ پر آذربائیجان کا مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قراردادوں کے مطابق ہے۔

خیال رہے کہ نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔

مزید پڑھیں:آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان جھڑپیں، ہلاکتوں کی تعداد 39 ہوگئی

آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہوئی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا اور اس لڑائی میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سوویت یونین سے 1991 میں آزادی حاصل کرنے والے دونوں ممالک کے درمیان شروع سے ہی کشیدگی رہی جو 1994 میں جنگ بندی معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔

بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔

متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مسلمان اکثریتی ملک آذربائیجان اور عیسائی اکثریتی ملک آرمینیا کے درمیان حالیہ کشیدگی سے خطے کی دو بڑی طاقتوں روس اور ترکی کے درمیان تلخی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کا آرمینیا کی فوج کی پسپائی تک لڑنے کا عزم

آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پشینیان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ترکی کو تنازع سے دور رکھیں۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے آرمینیا کے وزیراعظم سے فوجی کشیدگی پر بات کی اور تنازع کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب آذربائیجان کے اتحادی ترکی نے کشیدگی شروع کرنے کا الزام آرمینیا پر عائد کیا اور باکو کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں آرمینیا کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آذر بائیجان سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔