سی این جی اسٹیشنز کو جلد نئے لائسنس جاری کیے جائیں گے

اپ ڈیٹ 07 اکتوبر 2020

ای میل

سی این جی کی ملک گیر کھپت گزشتہ سال کے مقابلے میں کافی کم ہوئی ہے— السٹریشن سلمان خان
سی این جی کی ملک گیر کھپت گزشتہ سال کے مقابلے میں کافی کم ہوئی ہے— السٹریشن سلمان خان

اسلام آباد: ماضی میں کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے شعبے کو متاثر کرنے والی سپلائی چین چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت درآمد شدہ ری-گیسفائڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی کی شرط پر سی این جی اسٹیشنز کو نئے لائسنس کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینئر سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ بدھ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں اس سیکٹر کی بحالی کے لیے نئے آر ایل این جی پر مبنی سی این جی لائسنس کی اجازت سمیت تین نکاتی ایجنڈے پر بات کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: سندھ بھر میں موسم سرما کے دوران سی این جی اسٹیشنز کی بندش متوقع

مشیر خزانہ اور محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مارکیٹ ریٹ میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم کے ریلیف پیکج-2020 کے تحت اشیائے ضروریات کی سبسڈی شدہ قیمتوں میں نظرثانی پر بھی غور کیا جائے گا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی سندھ میں مینگریو اور مٹھری گیس فیلڈز سے تھوڑی مقدار میں قدرتی گیس سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو بھی مختص کرے گی۔

فی الحال سی این جی کی کل کھپت تقریباً 188 ملین مکعب فٹ فی دن (ایم ایم سی ایف ڈی) پر ہے جبکہ 2009 اور 2011 کے درمیان یہ کھپت تقریباً 392 ایم ایم سی ایف ڈی کی بلند ترین سطح پر تھی جب گیس کی کمی سے قبل سی این جی کا کاروبار عروج پر تھا۔

کووڈ-19 سے قبل پنجاب میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں آر ایل این جی کی کھپت تقریباً 65 ایم ایم سی ایف ڈی تھی جو کم ہوکر 50 ایم ایم سی ایف ڈی ہو گئی ہے جبکہ باقی 140 ایم ایم سی ایف ڈی سی این جی دوسرے صوبوں میں استعمال ہو رہی ہے جس میں سب سے زیادہ کھپت سندھ کی ہے، 2009 سے 2011 کے درمیان صوبہ پنجاب ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سب سے زیادہ 240 ایم ایم سی ایف ڈی استعمال کرتا تھا۔

پیٹرولیم ڈویژن نے درآمدی آر ایل این جی کے استعمال کے لیے نئے سی این جی لائسنس کی گرانٹ کی سمری بھیج دی ہے جو حالیہ حکومتی فیصلے کے بعد سرپلس ہو گئی ہے کیونکہ حکومت نے بہتر نجکاری کے لیے 3900 میگا واٹ کے حامل پنجاب کے تین پاور پلانٹس کے لیے لازمی قرار دی گئی 66 فیصد خریداری کی پابندی ہٹا لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی این جی پر چلنے والی وینز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف مہم

ڈویژن کو کچھ دن پہلے کابینہ کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ وہ بجلی گھروں سے ہٹائی گئی پابندی کے بعد ملنے والی اضافی آر ایل این جی کے لیے متبادل آپشن استعمال کریں۔

اس اقدام کا مقصد پورٹ قاسم پر موجود دو ایل این جی ری گیسیفکیشن ٹرمینلز کا استعمال ہے اور آئندہ 12-18 ماہ کے عرصے میں آنے والے دو ٹرمینلز کے لیے طلب پیدا کرنا ہے۔

اس مدت کے دوران حکومت کو بند سی این جی اسٹیشنز کی بحالی اور نئے لائسنسز کے چلانے کی توقع ہے۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بنیادی طور پر سی این جی اسٹیشن کی منظوری اور ان کی توسیع کی پیشگی تفتیش کی وجہ سے اس سمری کی مخالفت کی تھی۔

پیٹرولیم ڈویژن نے پچھلے سال اوگرا سے کہا تھا کہ وہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں آر ایل این جی پر مبنی گیس کنکشن کی اجازت دے، جب سی این جی آپریٹرز اوگرا کے پاس پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ سی این جی اسٹیشنز کے لائسنس جو کئی سالوں سے چل رہے ہیں ان کی تجدید نہیں کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ بیشتر شہروں میں آر ایل این جی دستیاب نہیں جس کے نتیجے میں بہت سے سی این جی اسٹیشن بند ہو گئے۔

مزید پڑھیں: سی این جی کی قیمت میں فی کلو 22 روپے تک کا اضافہ

اوگرا آرڈیننس 2002 اور سی این جی پروڈکشن اینڈ مارکیٹنگ رولز 1992 کی دفعات کے تحت کسی بھی ممکنہ سرمایہ کار درخواست دہندہ کو سی این جی لائسنس کا اجرا اوگرا کے خصوصی دائرہ کار کے تحت آتا ہے۔

جنوری 2008 میں اس وقت کے نگراں وزیر اعظم محمد میاں سومرو نے بجلی اور گیس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بارے میں ایک پریزنٹیشن وصول کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ 'پائپ لائن میں سی این جی کے نئے لائسنس رکھے جائیں اور سی این جی کنکشن ان لوگوں کے سوا کسی کو نہیں دیے جائیں جو پہلے ہی سی این جی مشینیں درآمد کر چکے ہیں'۔

بعدازاں اپریل 2011 میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ملک بھر میں صنعتی اور تجارتی گیس کے نئے کنکشن کی فراہمی پر پابندی عائد کردی تھی جس پر فوری طور پر چھ ماہ کی مدت کے لیے عمل درآمد کیا گیا تھا۔

مذکورہ پابندی کے خاتمے پر یوسف رضا گیلانی نے ستمبر 2011 میں سی این جی سیکٹر کے حوالے سے کچھ تجاویز کو منظور کیا تھا جس کے تحت اوگرا نے متوقع درخواست دہندگان کو مارکیٹنگ لائسنس جاری کیے تھے۔

جنوری 2013 میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے سابق وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کی طرف سے پیش کردہ سمری موصول کی اور سی این جی اسٹیشنز کے قیام کے لیے نئے عارضی لائسنس کے اجرا پر دوبارہ پابندی عائد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: گیس سپلائی چَین میں سالانہ 2 ارب ڈالر کے نقصان کا انکشاف

انہوں نے حکم دیا کہ سی این جی اسٹیشنز کے معاملات جو سول کام اور آلات کی تنصیب کے معاملے میں 100 فیصد مکمل ہیں اور معائنے کے لیے 29 فروری 2012 سے قبل اوگرا سے رجوع کر چکے ہیں، ان کے عارضی لائسنسوں میں توسیع/ تجدید نو کی منظوری کے لیے کارروائی کی جاسکتی ہے اور اسی کے مطابق مارکیٹنگ کے لائسنس دیں، وزیر اعظم کے سیکریٹریٹ نے بعد میں اس تاریخ میں 30 جون 2012 تک توسیع کردی۔

وفاقی کابینہ نے 12 اپریل 2017 کو اپنے اجلاس میں ری-گیسفائڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) پر مبنی نئے گیس کنکشن پر پابندی میں کی لہٰذا گیس یوٹیلیٹی کمپنیاں اب اس پوزیشن میں ہیں کہ آر ایل این جی کی فراہمی کی بنیاد پر سی این جی سیکٹر کے درخواست دہندگان کو نئے گیس کنکشن فراہم کریں۔

مزید یہ کہ نجی شعبہ اب سی این جی سیکٹر کی خدمت کے ایل این جی کی درآمد کررہا ہے اور اس شعبے کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت پر بوجھ بھی کم ہوتا جارہا ہے، نیز حکومت نے سن 2016 میں سی این جی کی قیمتوں کے تعین کا اختیار ختم کردیا تھا اور اب قیمتوں کا تعین سی این جی اسٹیشن مارکیٹ کی قوتوں کے اصول پر کرتے ہیں، تاہم برٹش تھرمل یونٹس (ایم ایم بی ٹی یو) میں ماپنے والے حرارتی نظام کے لحاظ سے سی این جی کی قیمت پیٹرول کے مقابلے میں ابھی تک سست روی کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوگرا کی غلطی سے آر ایل این جی صارفین کو 350 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا

تازہ سمری میں پیٹرولیم ڈویژن نے تجویز پیش کی ہے کہ نئے سی این جی لائسنس دینے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور اوگرا سے آر ایل این جی پر مبنی سی این جی لائسنس کی شرائط و ضوابط مرتب کرنے کو کہا جاسکتا ہے کہ لائسنس صرف آر ایل این جی پر مبنی سی این جی اور لائسنس دہندگان کے لیے ہے اور اس کی دیشی گیس میں دیسی گیس میں منتقلی کے لیے دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ توقع کی جارہی ہے کہ اگلے دو سالوں میں تقریباً 12 سال سے کاروبار سے باہر رہنے والے سی این جی اسٹیشنز کے ذریعے تقریباً 25 سے 40 ارب روپے کی سرمایہ کاری بحال ہوجائے گی۔