چین کی بھارتی میڈیا کو ملک نہ کہنے کی ہدایت پر تائیوان کا شدید ردعمل

08 اکتوبر 2020

ای میل

تائیوان کی حکومت نے چین کے بیان پر سخت ردعمل دیا—فوٹو:رائٹرز
تائیوان کی حکومت نے چین کے بیان پر سخت ردعمل دیا—فوٹو:رائٹرز

چین نے تائیوان کے قومی دن کے حوالے سے اخباروں میں اشتہارات پر بھارتی میڈیا کو ‘ون چائنا’ اصول کا احترام کرنے کی ہدایت کردی جبکہ تائیوان نے چین پر بھارت میں سینسر شپ کا الزام عائد کردیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق ہمالیہ کی متنازع سرحد میں شدید کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نیا تنازع سامنے آگیا ہے جس کی وجہ بھارتی حلقوں کی چین کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت ہے۔

بھارت میں قائم چین کے سفارت خانے کی جانب سے بھارتی صحافیوں کو مذکورہ اشتہار پر ہدایت کی گئی تھی جو تائیوان کی حکومت کی جانب سے دیا گیا اور اس میں تائیوان کو جمہوری ملک قرار دیا گیا تھا جبکہ چین کا تائیوان پر دعویٰ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین پر تائیوان کو دوسرا ہانگ کانگ بنانے کا الزام

تائیوان کی حکومت کے اشتہار میں صدر تسائی اینگ وین کی تصویر بھی شامل تھی اور جمہوری اور اتحادی ملک کے طور پر بھارت کی تعریف کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا ایک صوبہ قرار دیتا ہے اور بھارت میں چھپنے والے اشتہار پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے سفارت خانے کی جانب سے خبرایجنسی رائٹرز سمیت بھارت کے صحافیوں کو ای میل کی گئی تھی۔

چینی سفارت خانے نے بیان میں کہا تھا کہ ‘بھارت میں چینی سفارت خانہ تائیوان کے نام نہاد قومی دن کے حوالے سے میڈیا کے دوستوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اورحکومت عوامی جمہوری چین ہی پورے چین کی نمائندہ حکومت ہے’۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ بھارتی میڈیا تائیوان کے سوال پر بھارتی حکومت کی پوزیشن پر اکتفا کرے گا اور ون چائنا اصول کی خلاف ورزی نہیں کرے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تائیوان کو ایک ملک کے طور پر یا جمہوری چین یا چین کے خطے تائیوان کی قیادت کو صدر کے طور پیش نہیں کیا جائے اور عوام کو اس حوالے سے غلط پیغام نہیں دیا جائے’۔

مزید پڑھیں:تائیوان کے دورے پر چین کا جمہوریہ چیک کے وفد کو 'بھاری قیمت' چکانے کا انتباہ

دوسری جانب تائیوان کے وزیرخارجہ جوزف وو نے چین کی جانب سے بھارتی میڈیا کو جاری کیے گئے بیان پر اپنا شدید ردعمل دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘بھارت دنیا میں متحرک پریس اور آزادی پسند عوام کے ساتھ ایک بڑی جمہوریت ہے لیکن ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ کمیونسٹ چین سنسرشپ عائد کرتے ہوئے برصغیر میں داخل ہونے کی توقعات رکھتا ہے’۔

تائیوان کے وزیرخارجہ نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ‘تائیوان کے بھارت دوستوں کا ایک جواب ہے دفع ہوجاؤ!’

واضح رہے کہ چین اور تائیوان کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن دونوں فریق کاروباری اور ثقافتی حوالے سے جڑے ہوئے ہیں۔

بھارت کی حکومت تائیوان کے معاملے پر چین سے کشیدگی سے گریز کرتی رہی ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان رواں برس جون میں گلوان کی وادی پر ہونے والی لڑائی سے تعلقات میں شدید دراڈ پڑ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا مجوزہ قانون: تائیوان کا ہانگ کانگ کے لوگوں کو 'ضروری مدد' فراہم کرنے کا اعلان

ہمالیہ کی متنازع سرحد پر اس لڑائی میں بھارت کے 20 سے زائد فوجی مارے گئے تھے اور اس کے بعد بھارت کی قوم پرست تنظیموں نے چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

بھارت کی دفاعی اور سیکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے والے ویب سائٹ کے ایڈیٹر نیتن گوکھالے نے چینی سفارت خانے سے ملنے والی ای میل پر کہا کہ ‘چین کی حکومت ایک سپر پاور کے بجائے گلی کے غنڈوں کی طرح بات کررہی ہے اور ہمیں دھمکا رہی ہے’۔