بھارت دو محاذوں پر لڑنے کی دھمکی کے بجائے اپنی دفاعی کمزوری پر توجہ دے، پاکستان

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2020

ای میل

ترجمان دفترخارجہ نے بھارت کو اپنی کمزوریوں پر توجہ دینے پر زور دیا—فوٹو: ڈان نیوز
ترجمان دفترخارجہ نے بھارت کو اپنی کمزوریوں پر توجہ دینے پر زور دیا—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت لڑنے کے لیے تیار ہونے کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی ‘دفاعی کمزوریوں’ کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

بھارت کے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل آر کے ایس بھادوریا نے رواں ہفتے کے شروع میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارت دو محاذوں پر جنگ کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم تیار ہیں اور چین کا سامنا کرنے کے لیے بہترین پوزیشن پر ہیں اور ان کے پاس ہم پر برتری حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے’۔

مزید پڑھیں: پاک-چین عسکری تعاون پر بھارتی ڈیفنس چیف کے بیان کی مذمت

بھارت کو شمالی اور مغربی سرحد پر درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ بھارت دو محاذوں پر چین اور پاکستان سے نبردآزما ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

بھارتی ایئر چیف نے کہا تھا کہ ‘ہم باخبر ہیں کہ وہ دونوں قریبی تعاون کر رہے ہیں اور سنجیدہ خطرہ موجود ہے لیکن اب تک کوئی ایسا اشارہ نہیں ہے کہ وہ دونوں محاذ پر جنگ کے لیے تیاری کر رہے ہوں’۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات آر ایس ایس۔بی جے پی کے انتہا پسند نظریے اور بالادستی کی سوچ سے مغلوب ذہنیت کا عکس ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ حیرت انگیز بات ہے کہ بھارت کے سینئر سیاسی و عسکری رہنما خطے سمیت خود بھارت کے امن کو داؤ پر لگاتے ہوئے پاکستان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز بیانات جاری کر رہے ہیں’۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی چیف کو اس طرح کی شیخی بگھارتے وقت اپنی دفاعی کمزوریوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو دنیا کے سامنے بری طرح عیاں ہوچکی ہے’۔

بھارتی دفاعی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے رواں برس چین کے ساتھ شمالی سرحد پر کئی مہینوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارت کا دفاع ‘پہلے بالاکوٹ کے ناکام اقدام اور حال ہی میں لداخ میں بے نقاب ہوا’۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت اپنی کسی بھی مذموم حرکت کے خلاف پاکستانی قوم کے جذبے اور مسلح افواج کی تیاریوں کو نظر انداز نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارت کا بیان مسترد کردیا

ان کا کہنا تھا کہ ‘جنوبی ایشیا کے امن و خوشحالی کی خاطر بھارت تیسری صدی کے چانکیہ بیانیے کو چھوڑ دے اور اکیسویں صدی کے خطے کے امن و ترقی کے ماڈل کو اپنائے’۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت نے بھی پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے چین سے جاری کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔

جنرل بپن راوت نے یو ایس۔انڈیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم کے زیر اہتمام سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور چین کی افواج سے بھارت کو شمالی اور مغربی سرحد پر 'مشترکہ کارروائی' کا خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ 'ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پاکستان پراکسی وار کرنے کے لیے تیار ہوگا لیکن ہماری شمالی سرحد پر کوئی خطرہ بڑھا تو پاکستان اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور ہمیں مغربی سرحد پر مشکلات پیدا کرے گا'۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو 'بھاری نقصان کا سامنا' کرنا پڑے گا اگر اس نے کسی قسم کا 'مس ایڈونچر' کیا۔

پاکستان نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے بیان کی مذمت کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ اشتعال انگیز بیانات دینےاور اپنے ہسمائیوں پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں۔

دفتر خارجہ نے ان کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی سینئر عسکری قیادت کی جانب سے 'اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات' سے بی جے پی۔آر ایس ایس کا رویہ آشکار ہو رہا ہے، جو 'خطرناک انتہا پسند نظریات سے بھرپور، بالادستی کے ارادے اور پاکستان کے خلاف پائے جانے والے جنون کا مجموعہ ہے' اور یہ نظریہ بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کرگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں اصلاحات کے عمل پر بھارتی میڈیا کی 'بے بنیاد' رپورٹس مسترد

بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت ہر جغرافیائی سیاسی یا عسکری دھچکے پر غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے بے بنیاد اور اشتعال انگیزی کو مزید ہوا دیتی ہے۔

دفترخارجہ نے چین کے ساتھ کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'بھارت کی دفاعی صلاحیت دنیا کے سامنے شرم ناک حد تک بے نقاب ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا'۔

بھارتی جنرل کے بیان پر ردعمل میں مزید کہا گیا تھا کہ 'متشدد بیانات سے بھارت کو ذلت کے سوا کچھ نہیں ملا، بھارتی قیادت کو پاکستان مخالف رائے عامہ ہموار کرنے کے بجائے تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل نکالنے پر توجہ دینی چاہیے'۔

'امریکی میگزین نے بھی پاکستان کے موقف کی تائید کی'

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بھارت کو پرانے طرز کے 'چانکیہ نیتی' سے باہر نکلنے اور علاقائی امن و ترقی کے 21ویں صدی کے ماڈل کو اپنانے کا کہا ہے۔

امریکی میگزین میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل جس میں پاکستان کے موقف کی تائید کی گئی ہے، کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی پاکستان اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی کا سہارا لینے کے حوالے سے پاکستان مسلسل بین الاقوامی برادری کو بتارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اس وقت ہمیں ساری بین الاقوامی برادری سے حمایت مل رہی ہے جو پاکستان کے مستقل موقف کی تصدیق کرتی ہیں کہ بھارت دہشت گردی پھیلا رہا ہے، امریکی میگزین کی رپورٹ نے بھارت کا مزید چہرا بے نقاب کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ 'خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کے استعمال پر عالمی برادری کو فوری طور پر توجہ دینی چاہیے'۔

کلبھوشن یادیو کیس کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ بھارت ان ہی سوالوں کو دہراتا رہا جن کا جواب پہلے ہی دیا جاچکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے پہلے ہی بھارت کو دو مرتبہ قونصلر رسائی فراہم کی ہے اور تیسری کی پیش کش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی بھارت کو واضح کردی گئی ہے کہ صرف وہی وکیل پاکستان میں عدالتوں کے سامنے پیش ہوسکتے ہیں جن کے پاس اس ملک میں قانون پریکٹس کرنے کا لائسنس موجود ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ بھارت سمیت مختلف دائرہ اختیارات میں قانونی مشق کے مطابق تھا۔