پہلی بار عالمی ادارہ تجارت کی سربراہی خاتون کو دینے کی تیاری

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2020

ای میل

شارٹ لسٹ کی گئی دونوں میں سے کسی ایک خاتون کو سربراہ منتخب کیا جائے گا—فائل فوٹو: اے ایف پی/ رائٹرز
شارٹ لسٹ کی گئی دونوں میں سے کسی ایک خاتون کو سربراہ منتخب کیا جائے گا—فائل فوٹو: اے ایف پی/ رائٹرز

دنیا بھر میں تجارت کے عالمی معاملات دیکھنے اور تجارت سے متعلق قوانین تیار کرنے والے عالمی ادارہ تجارت (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کی سربراہی پہلی بار کسی خاتون کو دیے جانے کی تیاری مکمل کرلی گئی۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ادارے کے نئے سربراہ کے انتخاب کا معاملہ آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے اور رواں ماہ کے آخر تک ادارے کے نئے سربراہ کا انتخاب کرلیا جائے گا۔

بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی نئے سربراہ کے آخری مرحلے کے لیے دو خواتین امیدواروں کو منتخب کیا گیا ہے، جس میں سے کسی ایک کو ادارے کا نیا ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) منتخب کیا جائے گا۔

جاری بیان کے مطابق ڈی جی کے انتخاب کے آخری مرحلے کے لیے افریقی ملک نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی 66 سالہ ماہر معیشت نجوزی اکونجو اویلا اور جنوبی کوریا کی وزیر تجارت 53 سالہ یو میونگ ہی کو منتخب کیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ تجارت کی سربراہی کے لیے منتخب کی جانے والی دونوں خواتین کو عالمی تجارت سے متعلق وسیع تجربہ ہے اور دونوں اپنے ملک میں وزیر تجارت کی خدمات بھی دے چکی ہیں۔

نائیجریا کی نجوزی اکونجو اویلا پہلے ہی عالمی ادارہ تجارت کے ساتھ کام کر رہی ہیں جب کہ وہ دیگر عالمی تنظیموں سے بھی منسلک رہی ہیں جب کہ جنوبی کوریا کی یو میونگ ہی کو بھی عالمی سطح پر اہم تجارتی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

دونوں خواتین امیدواروں کو عالمی ادارہ تجارت کی جنرل کونسل نے مجموعی طور پر 8 امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا اور ڈی جی کے انتخاب کا سلسلہ رواں برس اگست سے ہی شروع کیا گیا تھا۔

عالمی ادارہ تجارت کی جنرل کونسل نے نائیجریا اور جنوبی کوریا کی خواتین کو ڈی جی کے عہدے کے لیے شارٹ لسٹ کرتے ہوئے ادارے کے سربراہ کے انتخاب کے لیے رواں ماہ 19 اکتوبر کو اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

عالمی ادارہ تجارت کی جنرل کونسل رواں ماہ 19 سے 27 اکتوبر کے دوران نئے سربراہ کا انتخاب کرے گی اور یہ واضح ہے کہ پہلی بار عالمی ادارے کی سربراہی کسی خاتون کے پاس جائے گی۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ تجارت کا قیام 1995 میں کیا گیا تھا، مذکورہ ادارے کے پاکستان سمیت 164 سے زائد ممالک رکن ہیں اور یہ ادارہ ممبر ممالک کے درمیان تجارت و واپار سے متعلق قوانین و ضوابط بنانے کا کام سر انجام دیتا ہے۔