پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کی روایتی ہرزہ سرائی کو مسترد کردیا

17 اکتوبر 2020

ای میل

ترجمان نے کہا کہ بھارت تمام قریبی ہمسایہ ممالک کے لیے بھی مسائل پیدا کر رہا ہے — فائل فوٹو
ترجمان نے کہا کہ بھارت تمام قریبی ہمسایہ ممالک کے لیے بھی مسائل پیدا کر رہا ہے — فائل فوٹو

پاکستان نے بھارت کے وزیر خارجہ کی بلاجواز اور روایتی ہرزہ سرائی کو مسترد کردیا جس میں دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بیان بھارت کے قابل مذمت رویے کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت اس نے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے لیے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں کیں۔

انہوں نے کہا کہ جعلی مقابلوں، تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران شہید کیے گئے نہتے کشمیری نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو دہشت گرد قرار دینا بھارتی قیادت کے ڈھونگ اور اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارت اور روابط کے نام نہاد دعویداروں کو دنیا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ کون علاقائی تعاون اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کی تنظیم (سارک) کے عمل کو سبوتاژ کررہا ہے جس کا آئندہ سربراہ اجلاس 2016 کے بعد اب تک نہیں ہو سکا۔

ترجمان نے کہا کہ یہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت کی خطرناک پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے کشمیریوں کو مسلسل ہدف بنایا جارہا ہے اور بھارت میں اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کے ہمسایہ ممالک پر عائد الزامات مسترد کردیے

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھارت تمام قریبی ہمسایہ ممالک کے لیے بھی مسائل پیدا کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سبرامَنیم جے شنکر نے تھنک ٹینک کی آن لائن تقریب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی حکومت دہشت گردی کو بطور پالیسی استعمال کرنے کا جواز پیش کرتی ہے جس سے تعلقات کو فروغ دینے میں بہت مشکل پیش آرہی ہے۔

دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق سبرامَنیم جے شنکر نے کہا کہ ہمارے درمیان معمول کے ویزا تعلقات نہیں ہیں، وہ اس حوالے سے کئی بندشیں لگاتے ہیں، انہوں نے بھارت سے افغانستان اور افغانستان سے بھارت کے درمیان روابط کو بلاک کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام پڑوسی ویزے جاری کرتے ہیں اور آپس میں تجارت کرتے ہیں، وہ روابط قائم کرتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ وہ دہشت گردی نہیں کرتے، اور میرے خیال میں جب تک ہم یہ مسئلہ حل نہیں کرتے، اس انتہائی منفرد پڑوسی کے ساتھ عام تعلقات رکھنے کا چیلنج ہماری خارجہ پالیسی کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارت کا بیان مسترد کردیا

خیال رہے کہ بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت آئے روز پاکستان مخالف بیانات دیتی رہتی ہے۔

چند روز قبل بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان اور چین ایک مشن کے تحت 'بھارت کے ساتھ' سرحدی تنازعات' پیدا کرنے' پر کام کر رہے ہیں۔

راج ناتھ سنگھ نے مذکورہ بیان مقبوضہ کشمیر، لداخ، اروناچل پردیش، ہماچل پردیش، سکم، اترکھنڈ اور بھارتی پنجاب سمیت پاکستان اور چین کے ساتھ واقع بھارت کی سرحدوں کے قریبی علاقوں میں تعمیر کیے جانے والے 44 پلوں کے افتتاح کے موقع پر ورچوئل تقریب میں دیا تھا۔

بھارتی وزیر دفاع نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا تھا کہ 'آپ ہمارے شمالی اور مشرقی سرحدوں کے ساتھ پیدا ہونے والی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'پہلے پاکستان اور اب چین بھی، گویا کسی مشن کے تحت کوئی سرحدی تنازع پیدا کرنا چاہ رہے ہیں'۔