کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری وفاقی حکومت کی ایما پر ہوئی، ناصر حسین شاہ

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2020

ای میل

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام کارروائی سے پہلے حکومت سندھ کو کسی بھی سطح پر آگاہ نہیں کیا گیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام کارروائی سے پہلے حکومت سندھ کو کسی بھی سطح پر آگاہ نہیں کیا گیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما اور وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے جو واقعہ پیش آیا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایف آئی آر اور گرفتاری کا سارا کھیل وفاقی حکومت کی ایما پر ہوا۔

مزار قائد پر پیش آنے والے واقعے سے متعلق بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف تمام کارروائی سے پہلے حکومت سندھ کو کسی بھی سطح پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: گرفتار کیپٹن (ر) محمد صفدر کی ضمانت منظور

صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے مقدمہ درج کرانے کے لیے پولیس کو الگ الگ درخواستیں دیں لیکن پولیس نے درخواستوں کو غیر قانونی قرار دے کر خارج کردیا۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے تھانوں میں درخواستیں جمع کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔

رہنما پیپلز پارٹی نے بتایا کہ بعد ازاں قائد اعظم بورڈ کی جانب سے رہنما مسلم لیگ (ن) کے خلاف پولیس کو درخواست دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے پیش کردہ درخواست پر مشورہ دیا کہ مذکورہ درخواست مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کیلئے سندھ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا، محمد زبیر

سید ناصر حسین شاہ نے دعویٰ کیا کہ 'اس دوران ایک شخص نے پولیس کو درخواست دی کہ کیپٹن (ر) صفدر نے اس کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے'۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ پولیس نے مذکورہ شخص کے الزام پر کیپٹن (ر) صفدر سمیت دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تفتیش سے پہلے چار دیواری کا تقدس پامال کرکے کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنا قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے رہنما مسلم لیگ (ن) کی گرفتاری کا سخت نوٹس لیا ہے اور صوبائی حکومت اس معاملے پر اعلیٰ سطح کی انکوائری کرائے گی۔

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری و رہائی

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ ’پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا‘۔

پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں ہوئی، سعید غنی

کراچی کے ضلع شرقی کے تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔

مذکورہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506-بی کے تحت درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے 200 ساتھیوں نے مزار قائد کا تقدس پامال، قبر کی بے حرمتی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔

تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیر حسین میمن نے ایک لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض لیگی رہنما کی ضمانت پر رہائی کی درخواست منظور کر لی تھی۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما 18 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔

باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی، جیسے ہی فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے تھے، جس پر کیپٹن (ر) صفدر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا جبکہ یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔

اس دوران مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔

یہ صورتحال چند لمحوں تک جاری رہی تھی جس کے بعد مریم نواز اور دیگر افراد احاطے سے نکل گئے تھے۔