منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2020

ای میل

احتساب عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
احتساب عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا۔

منگل کو منی لانڈرنگ کیس میں جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جس میں نیب نے ملزم سے تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید ریمانڈ مانگا۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف 13 اکتوبر تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے استفسار کیا کہ شہباز شریف کا مزید جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف نے جو قرض لیا وہ واپس کیسے کیا اس سے متعلق تفتیش کرنی ہے۔

نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ شہباز شریف سے جو بھی سوالات کرتے ہیں وہ کہتے ہیں جوابات عدالت میں دوں گا جبکہ سلمان شہباز کے اکاؤنٹس سے پاؤنڈز ٹرانسفر ہوتے رہے۔

نیب نے کہا کہ شہباز شریف سے ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی اور ہمیں تفتیش مکمل کرنی ہے۔

اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ نیب نے جو سوالنامے دیے ہیں اس کے علاوہ کوئی نیا سوالنامہ نہیں دیا، میں نیب کے سوالات کے جوابات دے چکا ہوں اور وہ جوابات ریفرنس کا حصہ ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ نیب نے پورے ہفتے میں مجھ سے 15 منٹ تفتیش کی ہے، نیب والے تو اُٹھ کر جا رہے تھے، میں نے اس ملاقات کو طویل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف کی ضمانت میں ایک روز کی توسیع

نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ شہباز شریف نے ایک اکاؤنٹ سے 17 ہزار پاؤنڈ بیرون ملک بھجوائے، وہ پیسہ کہاں سے آیا، شہباز شریف نہیں بتا رہے، شہباز شریف تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف نے وائٹ کالر کرائم کیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2018 میں جب میں نیب کے عقوبت خانے میں تھا تب یہ انکوائری شروع ہوئی، پچھلا اور اب کا ریمانڈ ملا کے مجھے نیب کی حراست میں 85 روز ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج میں نے اخبار میں پڑھا کہ نیب نے میرے خلاف صاف پانی کیس نیب نے بند کر دیا ہے۔

احتساب عدالت نے نیب کی شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں احتساب عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے اور انہیں دوبارہ 27 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

جوڈیشل ریمانڈ پر لیگی کارکنوں نے جج پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب اور امیر مقام نے کمرہ عدالت میں شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں انہیں کل کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف اور اہلخانہ کے خلاف منی لانڈرنگ کا ریفرنس دائر

بعدازاں کمرہ عدالت میں شہباز شریف نے ڈان نیوز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے ساتھ کراچی ہوٹل میں پیش آنے والے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا رویہ فاشسٹ ہے، بہو بیٹی عورتوں کی کچھ اقدار ہوتی ہیں لیکن اس کی پامالی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیشہ ذاتیات اور انتقام کی سیاست کی ہے، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن عمران خان اپوزیشن کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

مسلم لیگ(ن) کے صدر نے کہا کہ عوامی سمندر اس حکومت کو اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔

سماعت کے بعد شہباز شریف کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست ان کی ہدایت اور مشورے کے بعد فائل کریں گے۔

جب وکیل سے سوال کیا گیا کہ جسمانی ریمانڈ میں کیوں توسیع نہیں ہوئی تو انہوں نے کہا کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے، ریفرینس فائل ہو چکا ہے لہٰذا ٹرائل شروع ہونے کے بعد عموماً جسمانی ریمانڈ نہیں ہوتا۔

منی لانڈرنگ ریفرنس

خیال رہے کہ 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

بعد ازاں 20 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔

ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ ریفرنس: شہباز شریف کی اہلیہ، بیٹی اور داماد کے وارنٹ گرفتاری جاری

ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔

اس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔

اس معاملے میں لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کررکھی ہے جبکہ اسی معاملے میں گزشتہ دنوں لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور بیٹی رابعہ عمران کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔