بحریہ ٹاؤن اراضی کیس میں بلڈر کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

عدالت نے ایک مرتبہ پھر وارنٹ گرفتاری جاری کیے—فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت نے ایک مرتبہ پھر وارنٹ گرفتاری جاری کیے—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: احتساب عدالت نے کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی کثیرالمنزلہ عمارت کے لیے تجارتی زمین کے مبینہ طور پر غیرقانونی انضمام سے متعلق کیس میں مفرور بلڈر زین ملک کو برطانیہ میں پاکستانی حکام کے ذریعے گرفتار کرنے کے لیے دوبارہ ناقابل ضمانات وارنٹ جاری کردیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق میئر اور پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال، ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے داماد زین ملک، سابق کراچی ڈسٹرکٹ کورآرڈینشن آفیسر فضل الرحمٰن، سابق ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر افتخار قائم خانی اور دیگر اس کیس میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

مذکورہ معاملے پر احتساب عدالت نمبر 3 کی جج ڈاکٹر شیربانو کریم نے سماعت کی، اس دوران مصطفیٰ کمال اور دیگر ملزمان ضمانت پر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ فضل الرحمٰن کو ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے لایا گیا۔

مزید پڑھیں: ملک ریاض کے داماد کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

کیس کے تفتیشی افسر عبدالفتح نے کیس میں مبینہ طور پر مفرور زین ملک کی گرفتاری کے لیے عدالت کی جانب سے گزشتہ سماعت پر جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد سے متعلق تکمیلی رپورٹ جمع کروائی۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر شہباز سہوترا کے ذریعے جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو اسلام آباد میں قومی احتساب بیورو کے ہیڈکوارٹرز کے انٹرنیشنل کوآرڈینیشن ونگ (آئی سی ڈبلیو) کو بھیجا گیا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ آئی سی ڈبلیو نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے متعلقہ حکام تک رسائی حاصل کی تاکہ زین ملک سے رابطہ کیا جائے اور ان کے وارنٹ گرفتاری کی تکمیل کی جائے اور اس سلسلے میں تعمیلی رپورٹ نیب ہیڈکوارٹرز کو ارسال کی جائے۔

تاہم پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ آئی سی ڈبلیو حکام سے ابھی تک جواب نہیں موصول ہوا، ساتھ ہی انہوں نے وارنٹ کی تعمیل کے لیے مزید وقت کی درخواست کی۔

بعد ازاں جج نے 4 نومبر تک مزید وقت کی اجازت دیتے ہوئے زین ملک کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

واضح رہے کہ جون 2019 میں احتساب عدالت نے اس وقت کے میئر کراچی مصطفیٰ کمال، ڈی سی او فضل الرحمٰن، ای ڈی او افتخار قائم خانی، ڈسٹرکٹ افسر ممتاز حیدر، ایڈیشنل ڈی او سید نشاط علی اور کلفٹن کے سب رجسٹرار ٹو نذیر زرداری کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کا ریفرنس منظور کر لیا تھا۔

ریفرنس میں ڈی جے بلڈرز اینڈ ڈیولپرز سے منسلک 5 بلڈرز زین ملک، محمد داؤد، محمد یعقوب، محمد عرفان اور محمد رفیق کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

ریفرنس کے مطابق 1982 میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے ہٹائے گئے اخبار فروشوں کے لیے کوٹھاری پریڈ سے متصل دو ایمنٹی پلاٹوں پر 198 اسٹالز/دکانیں قائم کی تھیں جبکہ اسی جگہ پر چار کمرشل پلاٹس بھی نکالے گئے تھے جن میں سے ہر پلاٹ 255.55 گز پر مشتمل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک ریاض کا داماد ساڑھے 9 ارب روپے کی پلی بارگن پر مقدمات سے بری

ریفرنس میں الزام لگایا گیا کہ ڈی جے بلڈرز نے چاروں کمرشل پلاٹ اور اخبار فروشوں کے 198 اسٹالز خرید لیے، تاہم یہ دو ایمنٹی پلاٹ کبھی بلڈرز کے نام پر منتقل نہیں کیے گئے۔

نیب نے مزید الزام لگایا تھا کہ ڈی جے بلڈرز سے منسلک زین ملک اور دیگر نے مصطفیٰ کمال اور فضل الرحمٰن کی مدد سے غیر قانونی طور پر کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر 102 اسٹالز بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کے نام پر منتقل کروائے۔

ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ رجسٹریشن ڈیڈ میں ان اسٹالز کی قیمت صرف 26 کروڑ روپے دکھائی گئی حالانکہ ان کی مارکیٹ قیمت 2 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد تھی۔

نیب نے الزام لگایا تھا کہ پلاٹ کے اختلاط سے زین ملک نے فائدہ اٹھایا۔