بھارتی میڈیا کو پاکستان میں ’خانہ جنگی‘ کے جھوٹے دعوؤں پر منہ کی کھانا پڑگئی

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

بھارتی ویب سائٹ کی جھوٹی خبر کا اسکرین شاٹ
بھارتی ویب سائٹ کی جھوٹی خبر کا اسکرین شاٹ

حکومتی وزرا نے بھارتی میڈیا کے ان مضحکہ خیز دعوؤں کی نشاندہی کر کے سماجی روابط کے پلیٹ فارم ٹوئٹر کی انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے جس میں کہا جارہا تھا کہ کراچی میں ’خانہ جنگی‘ شروع ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ٹوئٹر ’جان بوجھ کر‘ بھارتی میڈیا کی پاکستان کے حوالے سے جھوٹی خبروں کو نظر انداز کررہا ہے۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے بھی بھارتی میڈیا میں ’بدنیتی پر مبنی اور من گھڑت خبروں اور پروپیگنڈا مہم‘ کا نوٹس لیا۔

یہ بھی پڑھیں:'جھوٹے پروپیگنڈے' پر ردعمل: نیپال میں بھارتی نیوز چینلز کی نشریات بند

ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے جنون میں مبتلا بی جے پی-آر ایس ایس حکومت کی ایما پر بھارتی میڈیا کی اس قسم کی کوششیں ایک مخصوص اور جانے پہچانے مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ بھارتی میڈیا نئی پستیوں کو چھو رہا ہے‘، بھارتی میڈیا اور حکومت کے لیے بہتر مشورہ ہے کہ بھارت میں جاری احتجاج اور بدامنی پر توجہ دیں‘۔

خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اپوزیشن رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق معاملات کی انکوائری کی ہدایت کے ایک روز بعد بدھ کو بھارتی نشریاتی اداروں بشمول انڈیا ٹوڈے، زی نیوز، سی این این 18 اور انڈیا ڈاٹ کام نے اپنی رپورٹ میں کراچی میں ’خانہ جنگی جیسی صورتحال‘ کا ذکر کیا۔

کچھ رپورٹس میں ایک دوسرے میڈیا ادارے دی انٹرنیشنل ہیرالڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کے معاشی حب میں سندھ پولیس اور فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ ٹوئٹر پر جھڑپ ظاہر کرنے والی جعلی ویڈیو بھی گردش کرتی رہی۔

سی این این نیوز 18، جو ٹی وی انڈیا اور سی این این انٹرنیشنل کی مشترکہ کاوش ہے، جنہوں نے بھی وہی ویڈیو شیئر کی اور اس نے تو اپنے دعوے میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’سندھ میں مارشل لا لگادیا گیا ہے‘۔

تاہم بعد میں میڈیا آؤٹلیٹ نے وہ ویڈیو اپنی ٹائم لائن سے ڈیلیٹ کردی لیکن ایک دوسری ویڈیو شیئر کی جس میں بھی ایسے ہی خرافاتی دعوے کیے جارہے تھے۔

اصل میں ہوا کیا تھا؟

خیال رہے کہ منگل کے روز سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی)، کم از کم 2 ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، 7 ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور 6 سینئر سپرنٹنڈٖنٹس نے 19 اکتوبر کو آئی جی کے گھر کے گھیراؤ پر احتجاجاً چھٹی پر جانے کی درخواست دے دی تھی۔

جس کے فوراً بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری کے معاملے کی ادارہ جاتی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’بھارت پروپیگنڈے کے بجائے اقلیتوں کو ہندو انتہا پسندوں سے بچائے‘

علاوہ ازیں ’پست حوصلہ‘ اور ’صدمے سے دوچار‘ پولیس فورس کو ہمت دلانے کی کوشش کے لیے چیئرمین پی پی پی نے وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزرا کے ہمراہ رات گئے آئی جی کے گھر کا دورہ بھی کیا تھا۔

جس کے بعد آرمی چیف کی جانب سے نوٹس لینے اور فوری انکوائری کا حکم دینے پر پولیس افسران نے اپنی چھٹیوں کو مؤخر کردیا تھا لیکن بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے برعکس کوئی جھڑپ یا اشتعال انگیزی نہیں ہوئی تھی۔

’بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا اپنے عروج پر ہے‘

بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں نے سیاستدانوں اور وزرا کو ٹوئٹر سے ان کے نوٹس کا مطالبہ کرنے پر مجبور کردیا۔

شیریں مزاری نے کہا کہ ’بھاری میڈیا پاکستان کے حوالے سے تابڑ توڑ جعلی خبریں پھیلا رہا ہے اور بدقسمتی سے ٹوئٹر جان بوجھ کر اسے نظر انداز کررہا ہے‘۔

وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا اپنے عروج پر ہے اور اس ’سرکس‘ میں پی ڈی ایم نے ایندھن شامل کیا۔

چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے کہا کہ بھارتی میڈیا پاکستان کے ریاستی اداروں کو ’بدنام کرنے کی جعلی، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم' کا دل کی گہرائیوں سے حصہ ہے۔

پی پی پی رہنما شیری رحمٰن نے پاکستان کے داخلی اختلافات کو ’سیاسی صحت مندی‘ کا اشارہ قرار دیا۔

پاکستانیوں کا بھارتی دعوؤں پر طنز

بھارتی میڈیا کے اشتعال انگیز دعوؤں کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگز 'CivilWarinKarachi' اور 'CivilWarinPakistan' ٹرینڈ کرنا شروع ہوئے اور پاکستانیوں نے اس مبالغہ آرائی پر میمز بنا کر شیئر کیں۔