سپریم کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس کی سماعت 4 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2020

ای میل

صحافی کے اہلِ خانہ کی وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ سماعت کو 4 ہفتوں تک ملتوی کرنے کے فیصلے پر حیران ہوئے—فائل فوٹو: ڈان
صحافی کے اہلِ خانہ کی وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ سماعت کو 4 ہفتوں تک ملتوی کرنے کے فیصلے پر حیران ہوئے—فائل فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں سزا یافتہ مجرم عمر شیخ کی بریت کے خلاف مقتول صحافی کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ڈینیئل پرل قتل کیس کے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ اور ان کے 3 ساتھیوں کو قتل کی منصوبہ بندی کرنے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن رواں برس اپریل میں سندھ ہائی کورٹ نے انہیں بری کردیا تھا۔

عدالت کے اس اقدام سے نہ صرف امریکی حکومت بلکہ ڈینیئل پرل کے اہلِ خانہ اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں حیران رہ گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈینیئل پرل کیس: فیصلے کی معطلی کیلئے حکومت سندھ کی اپیل مسترد

بریت کے خلاف سندھ حکومت اور صحافی کے اہلِ خانہ نے علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہیں جس میں کئی برس بھی لگ سکتے ہیں۔

صوبائی حکومت نے عمر شیخ کی رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے عوام کو خطرہ ہوسکتا ہے، چنانچہ ملزم اس وقت تک حراست میں رہے گا جب تک اپیلوں پر فیصلہ نہ ہوجائے۔

سپریم کورٹ میں مذکورہ اپیلوں کی گزشتہ روز ہوئی سماعت حکومتی وکیل فاروق نائیک کی بیماری کی وجہ سے غیر حاضری اور عمر شیخ کے وکیل دفاع کی درخواست پر سماعت ملتوی کی گئی۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: سپریم کورٹ کا ملزمان کی رہائی روکنے کے حکم میں توسیع سے انکار

ڈینیئل پرل کے اہلِ خانہ کی نمائندگی کرنے والے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ سماعت کو 4 ہفتوں تک ملتوی کرنے کے فیصلے پر حیران ہوئے اور بتایا کہ انہوں نے کیس کی تیزی سے سماعت کی استدعا کی تھی۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے ملزمان 3 ماہ کیلئے زیرحراست

بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔

عدالت نے مقدمے میں نامزد 4 ملزمان کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں

واضح رہے کہ ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے 3 ملزمان کی بریت اور مرکزی ملزم کی سزا میں تخفیف کے فیصلے کے خلاف مقتول صحافی کے اہلِ خانہ اور حکومت سندھ نے سپریم کورٹ میں علیحدہ علیحدہ درخواست دائر کی تھی۔

سندھ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی کی قتل کی ویڈیو کی ایک سرکاری عہدیدار (پی ٹی وی کے ایک ماہر) سے تصدیق کروائی گئی تھی جبکہ اسے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔

چنانچہ جمع شدہ ثبوتوں اور خاص کر ملزم اور شریک ملزمان کے اعترافی بیانات کے تناظر میں ہائی کورٹ کی جانب سے سزا میں تبدیلی اور بریت پائیدار نہیں اور اسے کالعدم ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: حکومت سندھ کی حکم امتناع کی درخواست مسترد

اسی طرح فطری اور آزاد شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تاوان کا مطالبہ ملزم نے ہی کیا تھا اور ڈاکیومینٹری ثبوت سے یہ بات ثابت بھی ہوئی چنانچہ سزا میں تبدیلی اور بریت غیر قانونی ہے۔

اپیل میں کہا گیا تھا کہ ملزم ایسا کوئی مواد پیش نہیں کرسکا جو پروسیکیوشن کے ثبوتوں کے خلاف شک پیدا کرتا بلکہ شریک ملزمان نے ریمانڈ کے دوران ٹرائل جج کے سامنے اپنا جرم قبول کیا۔

عدالت عظمیٰ میں دائر اپیل میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ اس کیس کے سنگین عوامل سمجھنے میں ناکام رہی جبکہ ملزم اور شریک ملزمان کی بریت اور سزائے موت میں تبدیلی کا فیصلہ انصاف کا قتل اور عدالت عظمیٰ کے طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔