وفاقی حکومت کا پیسکو میں بلنگ کی ذمہ داری بیرونی ادارے کو دینے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2020

ای میل

وفاقی حکومت نے پیسکو میں بلنگ کی ذمے داری بیرونی ادارے کو دینا کا فیصلہ کیا ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
وفاقی حکومت نے پیسکو میں بلنگ کی ذمے داری بیرونی ادارے کو دینا کا فیصلہ کیا ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بلنگ اور خسارے کا شکار ڈسٹری بیوشن کمپینوں سے وصولی کا کام اصولی طور پر بیرونی ادارے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا آغاز پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) سے کیا جائے گا اور کم از کم تین کمپنیوں میں نئے اسماٹ میٹرز متعارف کرائے جائیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ رواں ماہ کے اندر آؤٹ سورسنگ (بیرون ذرائع کو ٹھیکہ دینا) کے میکانزم کے بارے میں ایک منصوبہ وفاقی کابینہ کو پیش کیا جائے گا، سابقہ ​​واپڈا کی 10 تقسیم کار کمپنیوں میں پیسکو کا 39 فیصد کے ساتھ ٹرانسمیشن اور تقسیم کا نقصان سب سے زیادہ ہے، نیز یہ ان تین ڈسکوز میں شامل ہے جہاں مالی سال 2020 میں نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: مانسہرہ میں پیسکو ملازم فرض شناسی کی مثال بن گیا

کابینہ کے رکن نے کہا کہ پیسکو کے مختلف گرڈز اور فیڈرز کی درجہ بندی کی گئی ہے کہ جہاں سے پری پیڈ اسمارٹ پیمائش قابل عمل ہو گی اور جہاں بلنگ اور اس کی وصولی کو محصول وصول کرنے میں اضافے کے حساب سے مقامی ٹھیکیداروں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ خصوصاً دیہی علاقوں سمیت بہت سارے علاقے ہیں جہاں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیسکو عملہ بڑی مشکل سے کام کرسکتا تھا، ایسے علاقوں کو محصولات کی تقسیم کے سلسلے میں مقامی سطح پر بااثر افراد کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے اپنی ٹرانسمیشن کمپنی چلانے کے لیے آزاد ٹرانسمیشن لائسنس حاصل کرنے کے صوبائی حکومت کے اقدام کے مطابق ہے۔

خیبر پختونخوا دوسرا صوبہ ہے جس نے باضابطہ طور پر سندھ کے بعد اپنی ہی ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی کے لیے درخواست داخل کروائی جسے چند ماہ قبل لائسنس دیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا حکومت وفاقی ادارے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے کیونکہ وہ مبینہ طور پر پہاڑی علاقوں اور بنجر اراضی میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو ٹرانسمیشن کی سہولیات فراہمی میں اپنی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتا ہے جہاں بجلی پیدا کرنے کے ایسے وسائل موجود ہیں، صوبے میں صارفین بھی پہاڑوں اور دور دراز دیہاتوں کے مختلف علاقوں میں بکھرے پڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کی کارروائی، پیسکو کے سابق چیف گرفتار

خیبر پختونخوا حکومت کا کہناتھا کہ اب تک نیشنل گرڈ دور دراز کے علاقے میں داخل نہیں ہوسکا جس نے ایک طرف اس صوبے کو اپنی پیداواری صلاحیتوں کے ادراک اور دوسری طرف آبادی کو بجلی تک رسائی سے محروم کردیا ہے، حکومت کا کہنا تھا کہ اب وہ ہائیڈرو الیکٹرک بجلی، شمسی اور ہوا سے بجلی کے قابل تجدید ذرائع کے ساتھ ساتھ دیسی طور پر تیار کردہ گیس پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو جارحانہ طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حکومت ٹرانسمیشن لائنوں اور گرڈ سہولیات کی تعمیر، انہیں چلانے اور برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں تعمیراتی، آپریشن اور اعلیٰ اور اضافی ہائی ولٹیج ٹرانسمیشن لائنز کی مینٹیننس، ٹرانسمیشن سہولیات، گرڈ سسٹم اور گرڈ اسٹیشنز کو خیبر پختونخوا کے اندر موجود ڈسپیچ کی سہولیات کے ساتھ نظام کے کاموں سے وابستہ کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت نے ابتدائی طور پر چترال، دیر، مانسہرہ، کوہستان، ڈی آئی خان اور سوات کے علاقوں میں چھ راہداریوں کی نشاندہی کی ہے جو بجلی کی سروسز اور گرڈ سے متعلق سرگرمیوں کی فراہمی کے لیے اگلے 5 سے 15 سال میں تقریباً 7 ہزار 320 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کی جا سکے، جس میں چترال سے تقریباً 2 ہزار 946 میگا واٹ، دیر سے 508 میگاواٹ، کوہستان سے 2 ہزار 54 میگا واٹ، سوات سے ایک ہزار 76 میگا واٹ اور مانسہرہ سے 736 میگاواٹ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پارلیمانی کمیٹی نے نیپرا کے قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کردیا

اس استعداد کے لیے 500 کے وی، 220 کے وی اور 132 کے وی کے ٹرانسمیشن نیٹ ورک درکار ہوں گے تاکہ ان ایچ پی پی منصوبوں کو مربوط کرتے ہوئے توانائی کو لوڈ سینٹرز تک پہنچایا جا سکے، ٹرانسمیشن کمپنی صوبے کے مختلف حصوں کے تقریباً 12 خصوصی اقتصادی زونز میں براہ راست 700 میگاواٹ کی فراہمی پر بھی غور کر رہی ہے۔

انخلا کی حکمت عملی کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر مرحلے کو مزید مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے جس کی منصوبہ بندی، ڈیزائن اور اس کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا اور اس کی ترجیحی فہرست کے تحت مختلف اسٹیک ہولڈرز کی ضروریات کو پورا کرنے پر غور کیا جائے گا، علاقے کے تحت بجلی کی ترسیل کی حکمت عملی کو ہموار کیا جائے گا، مجوزہ کمپنی سے خصوصی اقتصادی زونوں کو باہمی رابطے اور ٹرانسمیشن کی سہولیات کی فراہمی کی توقع ہے۔