جیمزبونڈ کی نئی فلم اسٹریمنگ سروس کو فروخت کیے جانے کا امکان

25 اکتوبر 2020

ای میل

— اسکرین شاٹ
— اسکرین شاٹ

دسمبر 2019 میں چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے ’کورونا وائرس‘ کے نتیجے میں رواں سال متعدد فلموں کی ریلیز التوا کا شکار ہوچکی ہے۔

ان میں سے ایک جیمز بونڈ سیریز کی 25 ویں فلم بھی ہے جو پہلے اپریل میں ریلیز ہونی تھی مگر کورونا کے باعث اسے نومبر میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مگر اکتوبر میں اس کی ریلیز کی تاریخ ایک بار پھر آگے بڑھا کر اپریل 2021 کردی گئی۔

اب ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ جیمز بونڈ سیریز کی پہلی فلم ہوسکتی ہے جو سنیماؤں پر ریلیز نہیں ہوگی بلکہ کوئی اسٹریمنگ سروس اس کے حقوق حاصل کرلے گی۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ورائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایپل، نیٹ فلیکس اور دیگر اسٹریمنگ سروسز نو ٹائم ٹو ڈائی کے حقوق خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

فلم کے حقوق رکھنے والے اسٹوڈیو ایم جی ایم کو فلم کے التوا پر اب تک 8 کروڑ ڈالرز (12 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کا نقصان ہوچکا ہے۔

اس سے قبل دیگر اسٹوڈیوز پیراماؤنٹ اور سونی نے بھی اپنی فلمیں جیسے گرے ہاؤنڈ، کمنگ ٹو امریکا اور دیگر اسٹریمنگ سروسز کو فروخت کرکے کروڑوں ڈالرز کمائے، کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث سنیما بزنس اب تک سنبھل نہیں سکا۔

ایم جی ایم کے ایک ترجمان نے ورائٹی کو بتایا 'ہم افواہوں پر بات نہیں کرتے، یہ فلم برائے فروخت نہیں بلکہ اس کی ریلیز اپریل 2021 تک ملتوی کی گئی ہے'۔

تاہم رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایسا ممکن ہے کہ بونڈ سیریز کی یہ فلم اسٹریمنگ سروس کو فروخت کردی جائے کیونکہ ایم جی ایم نے اسے فروخت کرنے کا دروازہ کھول رکھا ہے۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

رپورٹ کے مطابق اسٹوڈیو کی جانب سے فلم کے لیے اسٹریمنگ سروسز سے 60 کروڑ ڈالرز (96 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

یہ قیمت اسٹریمنگ سروسز کے لیے بہت زیادہ ہے کیونکہ اب تک اتنی قیمت پر کوئی فلم کسی سروس نے خریدی نہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں بونڈ سیریز کے کنٹرول رکھنے والی کمپنی ای اون اس معاہدے کے لیے تیار ہوگی یا نہیں جبکہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا سے باہر فلم کی نمائش کے حقوق رکھنے والے اسٹوڈیو یونیورسل کو فلم کی فروخت میں حصہ دیا جائے گا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پہلی بڑی فلم ہوگی جو کورونا وائرس کے نتیجے میں سنیماؤں کی بجائے اسٹریمنگ سروسز کا حصہ بن جائے گی اور اس سے دیگر بڑی فلموں کے لیے بھی ایسا راستہ کھل جائے گا۔

خیال رہے کہ اس فلم کی تیاری پر 25 کروڑ ڈالرز سے زیادہ خر ہوئے اور متعدد کمپنیوں سے شراکت داری کی گئی، جو اسٹریمنگ سروس کے معاہدے پر کچھ زیادہ خوش نہیں ہوں گی۔

جیمز بونڈ سیریز فلمی صنعت کی چند مقبول ترین فرنچائزز میں سے ایک ہے جس کی 2015 میں ریلیز ہونے والی فلم اسپیکٹر نے دنیا بھر میں 88 کروڑ ڈالرز کا بزنس کیا تھا جبکہ 2012 میں اسکائی فال نے ایک ارب ڈالرز سے زائد کمائے۔

یہ ڈینئل گریگ کی بطور 007 آخری فلم ہے۔