اسلام آباد: نیپرا نے بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس منسوخ کردیا

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2020

ای میل

نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 2012 میں پٹیشن دائر کی گئی تھی— فوٹو، عبداللہ وحید راجپوت
نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 2012 میں پٹیشن دائر کی گئی تھی— فوٹو، عبداللہ وحید راجپوت

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کو بجلی کی ترسیل (ڈسٹری بیوشن) کا لائسنس منسوخ کردیا۔

نیپرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر منسوخ کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی میں منظور شدہ پلان کے خلاف تعمیرات روکنے کا حکم

علاوہ ازیں نوٹی فکیشن میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطاب بحریہ ٹاؤن کو 24 اکتوبر 2010 کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔

اس میں کہا گیا کہ 'اسلام آباد ہائیکورٹ میں 2012 میں پٹیشن دائر کی گئی'۔

نوٹی فکیشن کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے 25 جون، یکم جولائی اور 29 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں ڈسٹری بیوشن کا لائسنس منسوخ کیا گیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ڈسٹری بیوشن کے لائسنسن کا اطلاق 16 اکتوبر ہوچکا۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی میں تمام تعمیراتی سرگرمیاں غیرقانونی ہیں، ایس بی سی اے

علاوہ ازیں نیپرا نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کو بحریہ ٹاؤن کےبجلی نظام کا کنٹرول سنبھالنے کی ہدایت کردی۔

نیپرا نے نوٹی فکیشن میں واضح کیا کہ آئیسکو بحریہ ٹاؤن کےساتھ بجلی کے آپریشن کا معاہدہ کرے گا۔

تاہم نوٹی فکیشن میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اس عمل کے دوران بحریہ ٹاؤن میں رہائشیوں کو بجلی کی لوڈیشڈنگ سے متعلق کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔