کورونا کی 'دوسری لہر': ملک میں شاپنگ مالز، مارکیٹس 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2020

ای میل

ملک بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا—فائل فوٹو: اے پی
ملک بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا—فائل فوٹو: اے پی

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک میں کورونا وبا کی 'دوسری لہر' کے پیش نظر تمام شاپنگ مالز، دکانیں اور مارکیٹس رات 10 بجے بند کرنے کی ہدایت جاری کردیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملک میں رپورٹ ہونے والے مجموعی کیسز میں سے 80 فیصد کیسز کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، گلگت، مظفرآباد میر پور، پشاور اور کوئٹہ میں سامنے آئے۔

این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں تفریح گاہ اور پبلک پارکس بھی شام 6 بجے بند کردیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں عوام کے لیے ماسک پہننا لازم قراد دیا گیا ہے جس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 6 ہزار روپے سے لے کر 35 ہزار روپے تک کا جرمانہ اور 6 ماہ تک جیل کی سزا ہوسکتی ہے، اس حوالے سے نوٹیفکیشن آج گزیٹ آف پاکستان میں شائع ہوگا تاہم اس کا اطلاق عید میلاد النبی ﷺ کے بعد ہوگا۔

مزید پڑھیں: کورونا ایس او پیز نظر انداز کرنے پر ‘سخت اقدامات’ کا انتباہ

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کورونا وائرس کے تمام پہلوؤں مثلاً ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح، شرح اموات، ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے میں اضافہ ہوا ہے، حالانکہ کہ کیسز میں غیر معمولی اضافہ نہیں ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت وائرس کو کنٹرول کرنے کے اقدامات اٹھانے چاہیئے ورنہ چیزیں خراب ہوتی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پیغام یہ ہےکہ پاکستان وائرس کے خلاف جیتی گئی جنگ نہ ہارے اور اس سلسلے میں صوبوں سے بھی مشاورت جاری ہے۔

بھاری جرمانے جو عام آدمی کے لیے ادا کرنا مشکل ہو کے بارے میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ یہ بات یقینی بنانا ضروری ہے کہ ہر شخص ماسک پہنے اور این سی او سی عوام کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر حد تک جائے گا۔

خیال رہے کہ این سی او سی کی جانب سے ملک بھر میں عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، مارکیٹس سمیت ان ڈور سرگرمیوں کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

این سی او سی کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ کورونا وبا کو روکنے کے لیے ایس او پیز کا اطلاق 29 اکتوبر سے ہوگا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ 'مذکورہ ایس او پیز پر اطلاق کا دورانیہ 2 ماہ ہوگا'۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے این سی او سی نے خبردار کیا تھا کہ اگر کووڈ-19 کے روک تھام کے لیے نافذ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر بہتر طور پر عمل نہیں کیا گیا تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال کافی بہتر تھی تاہم گزشتہ کچھ روز سے ایک مرتبہ پھر کیسز اور اموات میں اضافہ رپورٹ ہورہا ہے جبکہ موسم کی بدلتی صورتحال کے باعث اس کی دوسری لہر کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے، ڈاکٹر فیصل سلطان

وزارت قومی صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 825 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 14 مریض انتقال کر گئے۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت قومی صحت کے ساجد شاہ نے کہا تھا کہ اگر کووِڈ 19 کیسز کی تعداد یوں ہی بڑھتی رہی تو حکومت کے پاس تکلیف دہ فیصلے لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا جس کی وجہ سے ملک کی معیشت پر اثر پڑے گا

خیال رہے کہ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے اور پابندیوں میں مزید سختی ناگزیر نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہجوم اور تنگ جگہوں پر ماسک کا استعمال ضروری ہے چاہے یہ دکانیں ہوں، عوامی ٹرانسپورٹ، بسیں، شادی یا دیگر تقریبات ہوں جہاں تنگ جگہ میں بہت سے لوگ اکٹھے ہیں وہاں ماسک ضروری ہے’۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے ابتدائی 2 کیسز ایک ہی تاریخ یعنی 26 فروری کو سامنے آئے تھے جس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تعلیمی ادارے اور پر ہجوم مقامات کو بند کردیا گیا تھا بعدازاں لاک ڈاؤن نافذ کر کے ہر قسم کی سرگرمیاں محدود کردی گئی تھیں۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس میں آنے والی نئی تبدیلیاں کس حد تک خطرے کی گھنٹی؟

تاہم معاشی چیلنجز کو دیکھتے ہوئے اپریل میں ہی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنی شروع کردی تھی اور مئی میں متعدد کاروبار کھول دیئے گئے تھے جس کی وجہ سے جون میں پاکستان وبا پر عروج پر جا پہنچی تھی۔

بعد ازاں جون میں حکومت کی جانب سے ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی کر کے وہاں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے اور ٹی ٹی کیو پالیسی کو مؤثر انداز میں اپنانے سے جولائی میں وبا کا پھیلاؤ سست ہوگیا تھا اور اگست سے ستمبر تک صورتحال حوصلہ افزا رہی تاہم اکتوبر کے وسط سے کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

-