کورونا وائرس میں آنے والی نئی تبدیلیاں کس حد تک خطرے کی گھنٹی؟

26 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

نئے کورونا وائرس کی وبا کا آغاز دسمبر 2019 میں ہوا اور پھر دنیا بھر میں پھیل گئی اور اس وقت اس نے 'کسی بھی طرح مقصد حاصل' کرنے کی حکمت عملی اپنائی تھی مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ اس نے ایسے طریقوں کو اپنالیا ہے جو اسے اپنی نقول بنانے اور پھیلانے کے لیے زیادہ کامیاب اور مستحکم بنارہے ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یونیورسٹی آف الینواس کالج آف ایگریکلچرل، کنزیومر اینڈ انوائرمنٹل سائنسز کی اس تحقیق میں وائرس کی اپنی نئی اقسام کی شرح کو ٹریک کیا گیا۔

تحقیق کے لیے جنوری میں اس کے جینیاتی مواد پر مبنی پہلے جینوم سے آغاز کیا گیا اور اختتام مئی میں 15 ہزار سے زائد جینومز پر کیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ وائرس کے جینومز میں نئی تبدیلیوں کے کچھ حصوں میں تاحال متحرک انداز سے گھومنے کا عمل جاری رہا جس کے دوران وائرس اپنے میزبان (یا مریض) کے ماحول سے مطابقت بھی پیدا کررہا تھا، مگر اس کے دیگر حصوں میں تبدیلیوں کی شرح سے رفتار میں کمی کا عندیہ ملا۔

محققین نے بتایا کہ یہ بری خبر ہے کہ وائرس مسلسل خود کو بدلتا جارہا ہے، مگر یہ کارآمد یا دلچسپ پہلو بھی ہوسکتا ہے۔

ان کے بقول سب سے اہم بات یہ ہے کہ مخصوص پروٹینز میں استحکام کووڈ 19 کے علاج کے لیے اچھی خبر ہوسکتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ مثال کے طور پر ویکسین کی تیاری کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ نئی تبدیلیوں سے منسلک ہونے والی اینٹی باڈیز سب کچھ بدل سکتی ہیں، یعنی پروٹین بننے کا عمل، ان کی ساخت وغیر۔

انہوں نے کہا کہ یہ جاننا کہ کونسے پروٹینز اور ساخت اینٹی باڈیز کے ہدف ہوسکتے ہیں جو کہ ویکسینز اور دیگر طریقہ علاج کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔

تحقیقی ٹیم نے وائرس میں تبدیلیوں کی شرح میں سست روی اپریل سے نوٹس کی تھی جب برق رفتار تبدیلیوں کے ابتدائی دورانیے کے بعد اسپائیک پروٹین میں اور دیگر حصوں میں استحکام آنے لگا۔

اسپائیک پروٹین میں محققین نے ایک امینو ایسڈ 614 کو دریافت کیا جس نے ایک اور امینو ایسڈ کی جگہ لی تھی، یہ تبدیلی وائرس کی پوری آبادی میں مارچ اور اپریل کے دوران آئی تھی۔

محققین نے بتایا کہ اسپائیک میں اب وبا کے آغاز کے مقابلے میں بالکل مختلف پروٹین موجود ہے، اور پہلا پروٹین اب ابتدائی ورژن میں ہی دریافت کیا جاسکتا ہے۔

اسپائیک پروٹین ہی انسانی خلیات سے منسلک ہوکر اس میں وائرس کے جینیاتی مواد آر این اے کے داخلے کا ذمہ دار ہوتا ہے، جو اپنی نقول بناتا ہے۔

اس 614 نامی تبدیلی کو کچھ عرصے پہلے کی ایک تحقیق میں مریضوں میں وائرل لوڈ کے اضافے اور اس کے زیادہ متعدی ہونے کا باعث قرار دیا گیا تاہم بیماری کی شدت پر کوئی اثرات مرتب ہیں ہوئے۔

ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ اس تبدیلی کو اموات کی زیادہ شرح سے جوڑا گیا اور نئی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ابھی تصدیق ہونا باقی ہے، مگر یہ واضح ہے کہ اس تبدیلی سے وائرس کے خلیات میں داخلے اور پھیلاؤ کے عمل میں تیزی آئی۔

محققین نے دیگر نمایاں پروٹینز کے مقامات کے بارے میں بھی بتایا کہ اپریل سے ان میں بھی استحکام آیا ہے۔

ان میں این ایس پی 12 پولیمرز پروٹین جو آر این اے کی نقول بناتا ہے اور این ایس پی 13 ہیلی کیس پروٹین شامل ہے جو نقول شدہ آر این اے کو پروف ریڈ کرتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ تینوں تبدیلیاں ایک دوسرے سے جڑی ہیں، یہ مختلف مالیکیولز ضرور ہیں مگر ایک ہی ارتقائی عمل پر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ وائرس کے خامروں والے حصے بھی وقت کے ساتھ زیادہ متنوع ہوگئے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ہم کووڈ 19 سے آگے کیا توقع کرسکتے ہیں۔

انہوں نے nucleocapsid پروٹین میں تبدیلیوں کے عمل میں اضافے کو دریافت کیا، یہ پروٹین وائرس کے آر این اے کو میزبان خلیے میں داخلے کے بعد پیکجز میں تقسیم کرتا ہے جس سے انہیں وائرل ریلیز، نقول اور آگے پھیلانے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ یہ وائرس کے وہ حصے ہیں جن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان پروٹینز میں مخصوص تبدیلیوں سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ وائرس متحرک انداز سے اپنے پھیلاؤ کو بہتر کررہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ 2 پروٹینز ہمارے جسم کے وائرس کے خلاف مدافعت کے عمل میں مداخلت کرتے ہیں اور ان سے متعدد مریضوں میں مدافعتی نظام کے بے قابو ہونے کی وضاحت بھی ہوتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ اس کھوج سے علاج اور ویکسینز کی تیاری کو تیز کرنے میں اس وقت مدد مل سکے گی جب ہم نئی لہر کے لیے تیار ہورہے ہیں۔