گلوکارہ چیر نے کمبوڈیا جانے کو تیار ہاتھی کاوون کیلئے گانے تیار کرلیے

29 اکتوبر 2020

ای میل

کاوون کا علاج کرنے کی غرض سے اسے 30 ستمبر کو کمبوڈیا منتقل نہیں کیا گیا—فائل فوٹو: اے پی
کاوون کا علاج کرنے کی غرض سے اسے 30 ستمبر کو کمبوڈیا منتقل نہیں کیا گیا—فائل فوٹو: اے پی

امریکی گلوکارہ، اداکارہ اور جانوروں کے حقوق کی کارکن 74 سالہ چیر دنیا کے ان چند افراد میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان میں ناقص حالات میں زندگی گزارنے والے ہاتھی کاوون کی آزادی اور دوسرے ملک منتقلی میں کردار اہم کردار ادا کیا تھا۔

36 سالہ کاوون کو رواں برس مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مرغزار چڑیا گھر سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے احکامات دیے تھے۔

عدالت میں یہ کیس 2 سال سے زیر سماعت تھا اور عدالت مرغزار چڑیا گھر میں ناقص انتظامات پر سرکاری اداروں کی سرزنش بھی کر چکی تھی، تاہم مئی میں عدالت نے کیس کو نمٹاتے ہوئے تمام جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

جس کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ کاوون کو سری لنکا بھیجا جائے گا، تاہم بعد ازاں حکومت نے ہاتھی کو کمبوڈیا بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

جولائی میں حکومت نے تصدیق کی تھی کہ کاوون کو ستمبر کے آخر تک کمبوڈیا منتقل کیا جائے گا، تاہم بعد ازاں ہاتھی کی خراب صحت کے پیش نظر اس کی منتقلی کے فیصلے کو مزید کچھ ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔

اور اب خیال کیا جا رہا ہے کہ کاوون کو نومبر کے وسط تک کمبوڈیا منتقل کردیا جائے گا، تاہم ہاتھی کو منتقل کیے جانے کے حوالے سے حتمی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے چڑیا گھر میں قید ہاتھی کی رہائی پر امریکی گلوکارہ خوش

36 سالہ کاوون کی کمبوڈیا منتقلی پر جہاں دنیا بھر کے جانوروں کے حقوق کے کارکنان خوش ہیں، وہیں امریکی گلوکارہ 74 سالہ چیر بھی بے حد خوش ہیں۔

چیر نے کاوون کی پاکستان سے کمبوڈیا منتقلی کے موقع پر 2 خصوصی گانے بھی تیار کرلیے ہیں جب کہ وہ ہاتھی کی منتقلی کے وقت امریکا سے کمبوڈیا بھی پہنچیں گی۔

اداکارہ چیر نے اپنی ٹوئٹ میں کاوون کی منتقلی کے لیے تیار کیے گئے پنجرے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو بتایا کہ وہ ہاتھی کی منتقلی کے حوالے سے بہت خوش ہیں۔

انہوں نے ہاتھی کی منتقلی کے لیے بنائے گئے پنجرے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں امید ہے کہ مذکورہ پنجرے کے ذریعے کاوون کو آسانی سے کمبوڈیا منتقل کیا جائے گا۔

ساتھ ہی چیر نے بتایا کہ انہوں نے کاوون کی کمبوڈیا آمد کے حوالے سے 2 گانے بھی تیار کر رکھے ہیں اور وہ ہاتھی کی منتقلی کے وقت وہاں موجود بھی ہوں گی اور سوشل میڈیا پر شائقین کو ہر چیز براہ راست دکھائیں گی۔

خیال رہے کہ کاوون کو ایئربس کے ذریعے کمبوڈیا منقتل کیا جائے گا، ان کی منتقلی کے لیے بنایا گیا لوہے کا پنچرہ پاکستانی انجنیئر محمد عمر ہارون نے تیار کیا ہے، جس پر پاکستانی جھنڈے سمیت پاکستانی ٹرک آرٹ کو بھی سجایا گیا ہے۔

کاوون ہاتھی کو سری لنکا نے 1985 میں تحفے کے طور پر پاکستان کو دیا تھا اور اس وقت اس کی عمر محض ایک سال تھی۔

کاوون کو اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں رکھا گیا تھا اور انہیں چھوٹے جنگلے اور انتہائی محدود جگہ میں قید کردیا گیا تھا، جس وجہ سے ماہرین نے اس ہاتھی کی ذہنی و جسمانی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد کا واحد ہاتھی کمبوڈیا جانے کیلئے آزاد

کاوون ہاتھی کے ساتھی کو بھی سری لنکا سے 1995 میں پاکستان منتقل کیا گیا تھا مگر وہ ہاتھی 2012 میں ہلاک ہوگیا تھا، جس کے بعد انسانی حقوق کے رہنماؤں نے کاوون کے رہائی کے لیے جدوجہد شروع کی تھی۔

چیر نے ہاتھی کی آزادی کی مہم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا—فائل فوٹو: انسٹاگرام/ اے ایف پی
چیر نے ہاتھی کی آزادی کی مہم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا—فائل فوٹو: انسٹاگرام/ اے ایف پی

کاوون کو مرغزار چڑیا گھر سے نکالنے کے لیے گزشتہ دور حکومت کے دوران جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے دنیا بھر کے رہنماؤں میں ایک آن لائن پٹیشن پر 2 لاکھ کے قریب دستخط کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کاوون کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

کاوون کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی پٹیشن کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو دیا گیا تھا مگر اس پر عمل نہیں ہوا تو 2016 میں ایک بار پھر عالمی رہنماؤں نے دوسری پٹیشن پر دستخط کرکے حکومت سے دوبارہ بھی ہاتھی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم اس وقت ایسا نہ ہوسکا، جس کے بعد نجی فلاحی تنظیم وائلڈ لائف مینیجمنٹ نے مرغزار چڑیا گھر کے جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے تقریبا 2 سال تک کیس کی سماعت کرنے کے بعد 21 مئی2020 کو تمام جانوروں کو 60 دن جب کہ کاوون ہاتھی کو 30 دن میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

اور اب جلد ہی کاوون کو پاکستان سے کمبوڈیا منتقل کردیا جائے گا۔

اب ہاتھی کو نومبر کے وسط تک کمبوڈیا منتقل کردیا جائے گا—فائل فوٹو: اے ایف پی
اب ہاتھی کو نومبر کے وسط تک کمبوڈیا منتقل کردیا جائے گا—فائل فوٹو: اے ایف پی