بھارتی فوج کی خفت مٹانے کیلئے ایل او سی پر شدید فائرنگ و گولہ باری، 5 شہری اور ایک جوان شہید

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2020

ای میل

بھارتی فوج نے ہر طرح کے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال اور اندھادھند فائرنگ اور گولہ باری کی — فائل فوٹو / اے ایف پی
بھارتی فوج نے ہر طرح کے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال اور اندھادھند فائرنگ اور گولہ باری کی — فائل فوٹو / اے ایف پی

بھارتی فوج نے حریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں جانی نقصان کی ہزیمت مٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے متعدد سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ و گولہ باری کی جس سے 5 شہری اور پاک فوج کا ایک جوان شہید ہوگیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 7 اور 8 نومبر 2020 کی درمیانی شب بھارتی فوج کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں چند حریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جس میں اسے جانی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارتی فوج نے مقامی آبادی کے سامنے ہونے والی خفت مٹانے کے لیے 13 نومبر کو آزاد کشمیر کے متعدد سیکڑز میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اطراف ہر طرح کے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال اور اندھادھند فائرنگ اور گولہ باری کی۔

بھارتی فوج نے وادی نیلم (نیکرون، کیل، شاردا، دُودھنیال، شاہ کوٹ، جوڑا، نوسری سیکٹرز)، وادی لیپا (دانا، مندل اور کیانی سیکٹرز)، وادی جہلم (چَھم اور پانڈو سیکٹرز) اور وادی باغ (پِرکانتھی، سانکھ، حاجی پیر، بیدوری اور کیلر سیکٹرز) کو نشانہ بنایا۔

اس بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری میں بھارتی فوج نے خود کو پاک فوج کی پوسٹوں تک محدود نہیں رکھا اور تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں اور انسانی حقوق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایاْ۔

یہ بھی پڑھیں: لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ، ایک شہری شہید

بھارتی فوج کی اس اشتعال انگیزی سے 4 افراد شہید اور 12 زخمی ہوگئے، بعد ازاں مقامی حکام کی جانب سے اموات کی تعداد میں ایک اور اضافے کا بتایا گیا۔

پاک فوج کی جانب سے بھی بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا گیا اور معصوم شہریوں کو ہدف بنانے والی بھارتی پوسٹوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، جس سے بھارتی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا جس کا بھارتی میڈیا نے بھی اعتراف کیا۔

فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کا بھی ایک جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کا مصدقہ نقصان اس سے کئی زیادہ ہے جس کا اعتراف کیا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے بھارتی فوج میں اخلاقیات کی کمی، انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز اور انسانی حقوق کو مکمل نظر انداز کرنے کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے، جبکہ یہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے تاہم پاک فوج، اپنے جوانوں کے خون اور جان کی قیمت پر بھی مادر وطن اور کشمیری بھائیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یقین دلاتے ہیں کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی اشتعال انگیزیوں کا اسی طرح بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایل او سی پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کے 2 جوان شہید

ادھر بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاک فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے چار اضلاع میں فائرنگ کے نتیجے میں 6 شہریوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 3 آرمی اور ایک بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کا اہلکار شامل ہے، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی بھی ہی ہوئے۔

پارلیمانی پارٹی برائے کشمیر کے چیئرمین اور پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے ایل او سی کے اطراف شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصان کی ویڈیو شیئر کی۔

جمعہ کی صبح پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بیان میں کہا تھا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کرتے ہوئے رخ چکری اور خنجر سیکٹر میں راکٹ اور مارٹرز سے تاری بند اور سماہنی گاؤں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے ایک شہری نے جام شہادت نوش کیا جبکہ دو خواتین سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ پاک فوج نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

بھارتی ناظم الامور کی طلبی

دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے قابض بھارتی افواج کی جانب سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کی خلاف ورزی: بھارتی سینئر سفارتکار کو طلب کرکے احتجاج

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی فوج کا شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت نے رواں سال 2737 بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 25 بےگناہ شہری شہید اور 218 زخمی ہوئے ہیں۔