کراچی: ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹس،میرج ہالز کےخلاف کارروائی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 18 نومبر 2020

ای میل

افتخار شالوانی نے کہا کہ کسی کے ساتھ نرمی نہیں کی جائے گی — فائل فوٹو / ڈان
افتخار شالوانی نے کہا کہ کسی کے ساتھ نرمی نہیں کی جائے گی — فائل فوٹو / ڈان

کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کمشنر نے معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹس، میرج ہالز اور سپر مارکیٹس کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت سندھ کے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی وہ صورتحال کو بہتر بنانے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔

انہوں نے خاص طور پر ریسٹورنٹس، میرج ہالز اور سپر مارکیٹس کو ایس او پیز پر عملدرآمد کا پابند بنانے کے لیے ایکشن لینے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں 22 نومبر سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ

کمشنر کراچی نے کہا کہ میرج ہالز اور سپر مارکیٹس لاپرواہی کر رہے ہیں، ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کر رہے اور مختلف ذرائع سے ان کے بارے میں شکایت مل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وائرس پھیل رہا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خصوصی ہدایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کے ساتھ نرمی نہیں کی جائے گی اور جو ریسٹورنٹس، سپر مارکیٹس خلاف ورزی کر رہے ہیں بند کر دیے جائیں گے۔

افتخار شالوانی نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

انہوں نے کہا کہ میرج ہالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد کی ذمہ داری ہالز انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے ضلع میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کے رجحان کے بارے میں بریفنگ دی اور اپنے اپنے علاقوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے ریسٹونٹس، میرج ہالز اور سپر مارکیٹس کی نشاندہی کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ریسٹورنٹس، میرج ہالز اور سپر مارکیٹس کو کو تنبیہ کی جائے گی اور پابند کیا جائے گا کہ وہ حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کریں اور خریداروں کو عمل کرنے کا پابند کرائیں، ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: اسکولوں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آئندہ ہفتے کریں گے، وزیراعظم

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں بتدریج شدت آتی جارہی ہے اور یومیہ 2 ہزار سے زائد کیسز سامنے آرہے ہیں۔

ان کیسز میں بڑی تعداد سندھ کی ہے جہاں یومیہ کیسز کی تعداد ایک بار پھر ایک ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔

سندھ میں سامنے آنے والے کیسز میں سے زیادہ مریضوں کی تعداد کراچی کی ہوتی ہے جس کی بڑی وجہ ایس او پیز پر سنجیدگی سے عمل نہ کرنا ہے۔

خیال رہے کہ نیشل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کے حوالے سے ایس او پیز میں ایک بار پھر سختی لائی گئی ہے اور بند مقامات پر شادی کی تقریبات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ کھلے مقامات پر بھی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد کو 300 تک محدود کردیا گیا ہے۔