28 سال بعد 'ایس ایم ایس' کا عہد ختم ؟

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا بھر میں فیس بک کی زیرملکیت ایپلیکشن واٹس ایپ کو ماہانہ ڈیڑھ ارب سے زائد افراد اپنے پیاروں سے رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس میں میسجز بھیجنا مفت ہے اور بس انٹرنیٹ درکار ہوتا ہے۔

مگر ایسا لگتا ہے کہ واٹس ایپ کو اپنے سب سے بڑے حریف کا سامنا ہونے والا ہے کیونکہ گوگل نے اینڈرائیڈ فونز میں ٹیکسٹ میسجز کو لگ بھگ واٹس ایپ جتنا ہی بہتر بنادیا ہے۔

گوگل میسجز بنیادی طور پر اس کمپنی کے رچ کمیونیکشن سروس (آر سی ایس) کا حصہ ہے جس پر 2016 سے کام ہورہا ہے اور یہ ایس ایم ایس یا شارٹ میسج سروس کی جگہ لے گا جس کو 25 سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے جبکہ صارفین اس پر وائی فائی پر چیٹ، ہائی ریزولوشن تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے اور موصول کرنے کی سہولت، ریڈ رسیپٹ، ٹائپنگ انڈیکٹرز گروپ چیٹ اور گروپ چیٹس میں لوگوں کو ایڈ یا نکالنے جیسے فیچرز استعمال کرسکیں گے۔

2 سال کی کوششوں کے بعد آخرکار گوگل نے دنیا بھر کے اینڈرائیڈ صارفین (چین اور روس کو نکال کر) کو ایس ایم ایس کے اس متبادل تک رسائی فراہم کرنا شروع کردی ہے۔

اب موبائل کمپنیوں کی بجائے گوگل کی جانب سے براہ راست آر سی ایس چیٹ سروسز اینڈرائیڈ میسجز ایپ کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جس کے بس اس اپلیکیشن کو انسٹال کرکے اسے ڈیفالٹ ٹیکسٹ ایپ کی جگہ استعمال کرنا ہوگا۔

آر سی ایس کو گوگل نے گزشتہ سال برطانیہ، فرانس اور امریکا میں متعارف کرایا تھا اور گوگل کی جانب سے اب اس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے اضافے کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے۔

فی الحال یہ سہولت بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کو دستیاب ہوگی مگر بتدریج یہ بائی ڈیفالٹ ون آن ون چیٹ کا حصہ بن جائے گی، جس کے بعد موبائل کیرئیرز یا گوگل کوئی بھی میسجز کا مواد پڑھنے کے قابل نہیں رہے گا۔

گزشتہ سال گوگل کی پراڈکٹ منیجمنٹ ڈائریکٹرسانز آہاری نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے حوالے سے ہمیں تیکنیکی پیچیدگیوں کا سامنا ہے، کیونکہ ہمیں شراکت داروں کے قانونی اور پالیسی معاملات کو بھی دیکھنا ہے۔

انہوں نے آر سی ایس کے حوالے سے کہا کہ یہ اپ ڈیٹ بہت عرصے پہلے آجانی چاہیے تھی، کیونکہ اس وقت اینڈرائیڈ سسٹم میں ایس ایم ایس پروٹوکول میں صارفین کو جدید فیچرز دسیتاب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ عہد کے تقاضوں کے مطابق کام کرنے والے فیچرز ہین، یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

دنیا بھر میں موبائل کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں مشکلات کے بعد گزشتہ سال گوگل نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور مختلف ممالک میں بتدریج آر سی ایس سروسز کو براہ راست فراہم کرنا شروع کیا اور اس کے لیے مقامی موبائل کمپنیوں کا انتظار نہیں کیا گیا۔

اب گوگل نے اعلان کیا ہے کہ یہ عمل مکمل ہوگیا ہے اور اب دنیا بھر میں آر سی ایس سروسز اینڈرائیڈ میسجز کے ذریعے ہر ایک کو دستیاب ہے۔

یعنی اب کہا جاسکتا ہے کہ آخرکار ایس ایم ایس کا عہد گوگل کے اس قدم کے بعد ختم ہوگیا ہے اور مستقبل قریب میں اس سروس کے تحت بھیجے جانے والے پیغامات بھی دیگر کی رسائی سے دور ہوں گے جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی مہربانی ہوگی۔

تاہم اینڈ ٹو ایینڈ انکرپٹ میسجز کا فیچر کب تک تمام صارفین کو دستیاب ہوگا، یہ ابھی کہنا مشکل ہے۔

کمپنی کے مطابق اگر کوئی صارف کسی ایسے فرد کو میسج بھیجتا ہے جو اینڈرائیڈ میسجز کو استعمال نہیں کررہا تو بھی سروس کام کرے گی مگر ایڈوانس فیچرز یا اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کام نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ دنیا کا پہلا ایس ایم ایس 3 دسمبر 1992 کو بھیجا گیا تھا جس میں 'کرسمس مبارک' (Merry Christmas) ٹائپ کیا گیا تھا۔

یہ ایس ایم ایس برطانیہ کی ایک ٹیلی کام کمپنی سیما گروپ کے 22 سالہ ملازم نیل پاپورتھ نے کرسمس پارٹی میں مصروف کمپنی کے ڈائریکٹر رچرڈ دیرواس کو ارسال کیا تھا۔

ایس ایم ایس 160 حروف کی وہ سروس ہے جس کو 28 سال ہوگئے ہیں مگر آج کے فونز زیادہ طاقتور اور صارف زیادہ فیچرز مانگتے ہیں اور یہی چیز واٹس ایپ اور میسنجر کی کامیابی کا باعث بنی۔