حویلیاں طیارہ حادثہ: سول ایوی ایشن نے حادثے کا ذمہ دار پی آئی اے کو قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

چترال سے اسلام آباد جانے والا پی آئی اے کا جہاز 7 دسمبر 2016 کو حویلیاں کے نزدیک حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔
چترال سے اسلام آباد جانے والا پی آئی اے کا جہاز 7 دسمبر 2016 کو حویلیاں کے نزدیک حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔

پاکستان سول ایوی ایشن نے حویلیاں میں قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے اے ٹی آر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کی ذمہ داری 'پی آئی اے' پر عائد کردی۔

سول ایوی ایشن کی جانب سے 4 سال بعد تحقیقاتی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی۔

مزید پڑھیں: حویلیاں حادثہ: تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے، سی اے اے کی غفلت کا انکشاف

سول ایوی ایشن کی جانب سے 207 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حادثے کا ذمہ دار پائلٹ نہیں تھا بلکہ تکنیکی خرابی کے باعث طیارہ گر کر تباہ ہوا۔

سندھ ہائی کورٹ کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثے کا شکار اے ٹی آر طیارہ خراب تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے بھی سول ایوی ایشن کو جواب موصول ہوگیا ہے۔

جس پر عدالت نے ڈائریکٹر سیفٹی منیجمنٹ پی آئی اے کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ، 48 افراد جاں بحق

دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ حادثے کا ذمہ دار کون تھا؟ اور حادثہ کس کی غفلت سے پیش آیا؟

اس پر ڈائریکٹر انویسٹی گیشن بورڈ ایئر کموڈور عثمان غنی نے بتایا کہ رپورٹ میں شامل کچھ نکات پبلک نہیں کرسکتے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟

ایئر کموڈور عثمان غنی نے بتایا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیقات کی گئی ہیں اور مزید حادثات سے بچنے کے لیے سفارشات اور تجاویز بھی دی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: حادثے کا شکار ہونے والی پرواز میں سوار افراد کی تفصیل

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے انتظامیہ مزید حادثات سے بچنے کے لیے عدالت میں پیش ہوکر بتائیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کا جہاز اے ٹی آر 500-42 (661-پی کے)، جو چترال سے اسلام آباد آرہا تھا، ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں کے نزدیک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا تھا۔

پی آئی اے کی مذکورہ پرواز کے حادثے میں ملک کی معروف شخصیت جنید جمشید سمیت جہاز میں سوار تمام 47 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔