اسٹیل ملز کے ملازمین کی تعداد میں کمی کیلئے 19 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ منظور

21 نومبر 2020

ای میل

ای سی سی اجلاس میں اسکلز فار آل اسٹریٹجی پر عمل درآمد کے لیے 50 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ - رائٹرز:فائل فوٹو
ای سی سی اجلاس میں اسکلز فار آل اسٹریٹجی پر عمل درآمد کے لیے 50 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ - رائٹرز:فائل فوٹو

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تعداد میں کمی کا عمل شروع کرنے کے لیے 19 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اگست میں تقریبا 9 ہزار ملازمین کی بحالی کے پیکیج کو منظور کیا گیا تھا جس کے لیے گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم کے خصوصی پیکج کے تحت سکلز فار آل اسٹریٹجی پرعمل درآمد کے لیے 50 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی جبکہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی مختلف ضروریات کے لیے 68 کروڑ 93 لاکھ روپے کے تخصیصی بجٹ کی بھی منظوری دی گئی۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے سیکیورٹی کے لیے 38 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت توانائی کی تجویز پرعمیر ون سے اوجی ڈی سی ایل کو باہمی مشاورت سے طے کردہ قیمت پر اینگرو کو 2.25 ایم ایم سی ایف ڈٰی گیس مختص کرنے کی منظوری دی گئی تاہم اسے فیلڈ ڈیولپمنٹ پلان اورپیداواری لیزسے مشروط کردیا گیا ہے۔

اجلاس کوٹریڈنگ کارپویشن کے ذریعہ گندم کی صورتحال کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اضافی 3 لاکھ 40 ہزارمیٹرک ٹن گندم کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہے جس کے لیے 11 اکتوبر کو ٹینڈر جاری ہوا جو 18 اکتوبرکو کھولا گیا اور سب سے کم بولی دہندہ کی بولی کو قبول کیا گیا۔

اجلاس کوبتایا گیا کہ اب 2.248 ایم ایم ٹی گندم درآمد کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی کا گندم کی امدادی قیمت میں 25 فیصد اضافہ کرنے سے گریز

اس سے قبل 16 نومبر کو ای سی سی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے تقریبا 3 ہزار 500 ملازمین کے رضاکارانہ طور پر علیحدگی اسکیم کے لیے وفاقی حکومت سے 12 ارب روپے امداد مختص کرنے کے لیے ایوی ایشن ڈویژن کی سمری پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ای سی سی نے پی آئی اے عملے کو وی ایس ایس کی اصولی طور پر منظوری دے دی تاہم انہوں نے اس ہدایت کے ساتھ 12 ارب روپے کے مطالبے کو منظور نہیں کیا کہ عملے کو پیش کش کی جائے اور معلوم کیا جائے کہ کتنے ملازمین مطلوبہ فنڈز سے فائدہ اٹھانے پر راضی ہیں۔