جلسوں کیلئے وسیم اکرم پلس حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں، پیپلز پارٹی

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

رہنما پاکستان پیپلزپارٹی نفیسہ شاہ—فائل فوٹو: ٹوئٹر
رہنما پاکستان پیپلزپارٹی نفیسہ شاہ—فائل فوٹو: ٹوئٹر

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے تمام جلسے بروقت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملتان اور لاہور جلسوں کے لیے اجازت نہ دینے کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ ملتان اور لاہور کے جلسوں کے لیے اجازت نہ دینے کا فیصلہ قابل مذمت ہے، حکومت اجازت ناموں کی آڑ میں اپوزیش رہنماؤں کو مسلسل ڈرانے، دھمکانے کا سلسلہ بند کرے۔

نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ پشاور کے کامیاب جلسے پر وہاں کے عوام کو سلام اور مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود پشاور کے بعد ملتان اور لاہور کا جلسہ بھی شاندار ہوگا، جلسوں کے لیے وسیم اکرم پلس حکومت کی اجازت نہ پہلے درکار تھی نہ ہی اب چاہیے۔

مزید پڑھیں: اگر مکمل لاک ڈاؤن پر مجبور ہوئے تو ذمہ دار پی ڈی ایم ہوگی، وزیراعظم

سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی کے مطابق پی ڈی ایم کی تحریک کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو پی ڈی ایم اپنا راستہ خود بنائے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی وزرا خود کارنر میٹنگز کر رہے ہیں جبکہ فردوس عاشق اعوان نے ایس او پیز کی جو خلاف ورزی کی وہ بھی سب کے سامنے ہے، کیا حکومت نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف کوئی ایکشن لیا؟ کیا حکومتی اجتماعات میں کورونا نہیں آتا؟

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی بڑھتی لہر اور انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ دینے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے 22 نومبر کو پشاور میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس کے بعد اپوزیشن اتحاد 26 نومبر کو لاڑکانہ اور 30 نومبر کو ملتان میں جلسہ کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔

22 نومبر کو ہونے والا پشاور کا جلسہ حکومت مخالف پی ڈی ایم کا چوتھا سیاسی پاور شو تھا، اس سے قبل اپوزیشن اتحاد نے اپنے جلسوں کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ سے کیا تھا، جس کے بعد 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ کیا گیا تھا جبکہ 25 اکتوبر کو پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں سیاسی طاقت دکھائی تھی۔

پی ڈی ایم کیا ہے؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو رواں ماہ سے شروع ہونے والے ’ایکشن پلان‘ کے تحت 3 مرحلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے ذریعے حکومت کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نہ پنڈی، نہ آبپارہ کی رائے چلے گی، فیصلے عوام کریں گے، بلاول

ایکشن پلان کے تحت پی ڈی ایم نے رواں ماہ سے ملک گیر عوامی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، دسمبر میں ریلیوں اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک ’فیصلہ کن لانگ مارچ‘ کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے پہلے صدر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف سینئر نائب صدر ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اس کے سیکریٹری جنرل ہیں۔

اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اس اتحاد میں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں، تاہم جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔