ہنگامہ آرائی کیس: (ن) لیگ کے 31 رہنماؤں، کارکنان کی ضمانتوں کی توثیق

23 نومبر 2020

ای میل

11 اگست کو نیب دفتر کے باہر پولیس اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان میں تصادم ہوا تھا — فائل فوٹو / اے ایف پی
11 اگست کو نیب دفتر کے باہر پولیس اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان میں تصادم ہوا تھا — فائل فوٹو / اے ایف پی

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی سے متعلق کیس میں مسلم لیگ (ن) کے 31 رہنماؤں اور کارکنان کی ضمانتوں کی توثیق کردی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج ارشد حسین بھٹہ نے مریم نواز کی پیشی کے موقع پر پر نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس پر سماعت کی۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد لیگی رہنماؤں و سابق اراکین قومی اسمبلی علی پرویز اور پرویز ملک سمیت 31 ملزمان کی ضمانتوں کی توثیق کردی۔

سماعت کے دوران لیگی اراکین قومی اسمبلی ملک ریاض، رانا مبشر اقبال اور اراکین پنجاب اسمبلی سمیع اللہ خان، آغا علی حیدر، غزالی بٹ، رمضان بھٹی اور میاں مرغوب سمیت 28 لیگی رہنما و کارکنان ضمانت کے لیے عدالت پیش ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہنگامہ آرائی کیس: رانا ثنااللہ، کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانتیں منسوخ کرنے کی درخواست دائر

واضح رہے کہ مریم نواز کی پیشی کے موقع پر نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی کرنے پر رانا ثنااللہ، کیپٹن (ر) صفدر سمیت متعدد لیگی ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم 26 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لیگی رہنماؤں اور کارکنان کی ضمانت کی توثیق کردی تھی۔

قبل ازیں 13 اگست کو ضلع کچہری کی عدالت نے مریم نواز کی پیشی کے وقت نیب آفس پر پتھراؤ اور لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے تمام گرفتار کارکنان کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

حکومت پنجاب نے گزشتہ ہفتے رانا ثنااللہ اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر سمیت 30 لیگی ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

مزید پڑھیں: نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی: کیپٹن (ر) صفدر سمیت 30 ملزمان کی ضمانت کی توثیق

خیال رہے کہ 11 اگست کو جب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز انکوائری کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے پہنچیں تو نیب دفتر کے باہر پولیس اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان میں تصادم ہوا تھا۔

اس جھڑپ کے نتیجے میں سرکاری اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے اور پولیس نے بھی آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان پر پتھراؤ کیا، دونوں فریقین ایک دوسرے پر تصادم شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے جبکہ پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

جس کے بعد پولیس نے ضلع کچہری کی عدالت میں 58 گرفتار کارکنان کو پیش کر کے ان کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

11 اگست کی رات کو چونگ پولیس نے نیب کی شکایت پر مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے 300 کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں 187 افراد کو قانون نافذ کرنے والوں اور نیب عہدیداروں پر حملہ کرنے اور نیب کی عمارت کو نقصان پہنچانے پر مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی، مسلم لیگ (ن) کے گرفتار کارکنان کی ضمانت منظور

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ملزمان میں نیب کے روز مرہ کے دفتری امور کو تباہ کیا اور کارِ سرکار میں مداخلت کی، یہ شرپسدانہ حرکت مریم صفدر ان کے شوہر صفدر اعوان کی جانب سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ جاتی عمرہ سے گاڑیوں میں پتھر بھر کے لائے گئے، مریم نواز کے اشتعال دلانے پر کارکنان کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمع ہوئے جسے پولیس نے منتشر ہونے کا حکم دیا لیکن کارکنان نے اپنے رہنماؤں کی قیادت میں وردی میں ملبوس پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے 13 اہلکار زخمی ہوئے۔