سپریم کورٹ 2 دسمبر کو بحریہ ٹاؤن فنڈز کمیشن کے سربراہ کا فیصلہ کرے گی

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2020

ای میل

فیصلے کے مطابق کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا وہ ریٹائرڈ جج ہوسکتا ہے جو سندھ کا مستقل رہائشی ہو —فائل فوٹو: ڈان
فیصلے کے مطابق کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا وہ ریٹائرڈ جج ہوسکتا ہے جو سندھ کا مستقل رہائشی ہو —فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: سپریم کورٹ بحریہ ٹاؤن فنڈز کو خرچ کرنے کے لیے قائم اعلٰی سطح کے کمیشن کے سربراہ کا فیصلہ کرنے کے لیے 2 دسمبر سے سماعت کرے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت سے درخواست کی ہے کمیشن میں انہیں ان کے دفتر سے نامزد کردہ کسی افسر کے ذریعے نمائندگی کی اجازت دی جائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا معاملہ دیکھے گا جو بحریہ ٹاؤن کراچی کے فنڈز کو سندھ کے عوام کی فلاح کے لیے خرچ کیے جانے کی نگرانی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن تصفیہ فنڈ کہاں استعمال ہوگا؟ سپریم کورٹ نے کمیشن بنادیا

26 اکتوبر کو جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے بحریہ ٹاؤن کے علاوہ حکومت سندھ اور کی دائر درخواستیں خارج کردی تھی بینچ نے اٹارنی جنرل کو کمیشن کا تیسرا رکن اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو چوتھا رکن بنانے کی تجویز دی تھی۔

اب اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے ایک درخواست میں تجویز دی ہے کہ عدالتی حکم کو اس طرح تبدیل کیا جائے کہ ان کے بجائے کمیشن میں ان کے دفتر کی نمائندگی ان کا نامزد کیا گیا کوئی لا افسر کرے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے دفتر کی نمائندگی ان کا نامزد کردہ فرد کرے۔

خیال رہے کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کمیشن کے سربراہ کو چیف جسٹس گلزار احمد سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ کی سفارش پر نامزد کریں گے۔

مزید پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کا 'تصفیہ فنڈ' خزانے میں جمع کروانے کیلئے حکومت کی درخواست

فیصلے کے مطابق کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا وہ ریٹائرڈ جج ہوسکتا ہے جو سندھ کا مستقل رہائشی ہو اور اگر ایسا کوئی دستیاب نہ ہو تو کوئی نامورشہری یا صوبے میں سرکاری عہدہ رکھنے ولا کمیشن کی سربراہ بن سکتا ہے۔

زمینی حقائق کے مطابق اس عہدے کے لیے سپریم کورٹ کے جسٹس فیصل عرب سب سے مضبوط امیدوار نظر آتے ہیں جو نہ صرف کراچی کے مستقل رہائشی ہیں بلکہ پورے کیس کے حقائق سے بخوبی واقف ہیں۔

خیال رہے کہ 21 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) میں 16 ہزار 896 ایکٹر رقبہ اراضی کی خریداری کے لیے 460 ارب روپے کی پیش کش کو کچھ شرائط و ضوابط کے ساتھ قبول کیا تھا۔

فیصلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ زمین انکریمنٹ ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کے لیے دی گئی تھی تاہم ایم ڈی اے نے اسے بحریہ ٹاؤن کی اسکیم کے ساتھ بدل دیا تاکہ وہ اپنی اسکیم شروع کرسکے۔

بحریہ ٹاؤن کی اس 460 ارب روپے جمع کرانے کی پیش کش پر اب تک ریئل اسٹیٹ ڈیولپر کی جانب سے 52 ارب 60 کروڑ روپے جمع کروئے گئے ہیں اور ڈویلپر کی جمع کروائی گئی اقساط سے نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی گئی ہے جس پر رواں برس 29 جون تک 5 ارب 40 کروڑ روپے کا منافع/مارک اپ حاصل ہوا تھا۔

علاوہ ازیں اکتوبر میں سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جمع کروائے گئے فنڈز کو منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے 11 رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا۔