آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی معیشت کساد بازاری میں داخل

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2020

ای میل

مسلسل 2 سہ ماہیوں میں معیشت کے سکڑنے کا مطلب ہے کہ ملک 1947 کے بعد سے پہلی مرتبہ ’تکنیکی کساد بزاری‘ میں داخل ہوگیا—فوٹو: اے ایف پی
مسلسل 2 سہ ماہیوں میں معیشت کے سکڑنے کا مطلب ہے کہ ملک 1947 کے بعد سے پہلی مرتبہ ’تکنیکی کساد بزاری‘ میں داخل ہوگیا—فوٹو: اے ایف پی

ممبئی: بھارت کی معیشت جولائی اور ستمبر کے دوران 7.5 فیصد سکڑنے سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بڑی ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوگئی کیونکہ یہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ تکنیکی کساد بازاری میں داخل ہوئی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کساد بازاری میں داخل ہوگئی ہے۔

اگرچہ گزشتہ سہ ماہی میں ریکارڈ 23.9 فیصد سکڑنے کے مقابلے میں اعداد و شمار میں بہتری تھی تاہم یہ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایشیا کی تیسری بڑی معیشت سخت مقابلہ کر رہی ہے کیونکہ یہ طلب کو بحال کرنے اور روزگار پیدا کرنے کی کوششوں میں ہے جبکہ کورونا وائرس کا انفیکشن بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں کورونا کی ابتر صورتحال، ایک دن میں 90 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

تاہم مسلسل 2 سہ ماہیوں میں معیشت کے سکڑنے کا مطلب ہے کہ ملک 1947 کے بعد سے پہلی مرتبہ ’تکنیکی کساد بزاری‘ میں داخل ہوگیا ہے۔

وائرس سے متعلق لاک ڈاؤنز سے ہونے والی عالمی تباہی کے بعد امریکا، جاپان اور جرمنی سمیت بڑی معیشتوں کی جانب سے 30 ستمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں ریکارڈ کی گئی ترقی نے توقعات کو بڑھا دیا ہے کہ بھارت بھی بحالی سے مستفید ہوگا۔

اگرچہ اکتوبر اور نومبر میں تہواروں کے سیزن کے باعث صارفین کے کاروبار میں اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم تعمیراتی اور مہمان نوازی کے شعبے متاثر ہونے سے وسیع پیمانے پر بحالی کی امیدیں ختم ہوگئیں۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے گزشتہ سہ ماہی میں تقریباً 40 فیصد کمی کے بعد جولائی سے ستمبر کے دوران مینوفکچرنگ کی سرگرمی میں اضافہ ہوا جبکہ کاشتکاری بھی نسبتاً بہتر رہی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اگلی سہ ماہی میں معیشت کی بہتری کا امکان ہوگا۔

بروڈا کے اسٹیٹ بینک کے چیف اقتصادیات سمیر نارنگ کا کہنا تھا کہ تمام اشاروں کو دیکھتے ہوئے بھارتی معیشت کے لیے بدترین صورتحال ختم ہوگئی، ہم مسلسل بہتری دیکھیں گے اور آگے بڑھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کے اعداد و شمار نے 8 فیصد سکڑنے کے بینک کے تخمینے کو غلط ثابت کردیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ معاشی بحالی کے امکانات تب تک ہیں جب تک انفیکشن بڑھنے پر کوئی نیا لاک ڈاؤن نہیں لگتا۔

کوانٹ ایکو ریسرچ کے ماہر معاشیات وویک کمار کا کہنا تھا کہ مارچ کے آخر میں ہونے والے مہینوں میں طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے فیکٹریوں کی طویل بندش کے خاتمے کے بعد مینوفکچرنگ میں اضافہ بھارت کے لیے اچھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: کورونا کے کیسز میں اضافے کے بعد متعدد ریاستوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ

واضح رہے کہ بھارت کے مرکزی بینک کے گورنر شکتی کانتا داس کے گزشتہ ماہ کے جاری کردہ اندازے کے مطابق نئی دہلی نے اپنی اس معیشت کی بحالی کے لیے جدوجہد شروع کی ہے جس کا رواں سال 9.5 فیصد تک سکڑنے کا امکان ہے۔

وہیں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ بھارت کی معیشت رواں سال 10.3 فیصد تک سکڑ جائے گی، جو کسی بڑی ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے سب سے بڑا بحران ہے اور یہ آزادی کے بعد سے بدترین ہے۔

علاوہ ازیں رواں ماہ کے اوائل میں آکسفورڈ اکنامکس کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وبائی مرض سے لگنے والی پابندیوں میں نرمی کے بعد بھارت کی معیشت بدترین متاثرہ ہوگی اور 2025 تک سالانہ پیداوار وائرس سے پہلے کی سطح سے 12 فیصد کم ہوگی۔