مولانا فضل الرحمٰن بند گلی میں داخل نہ ہوں، حادثات جنم لے سکتے ہیں، شیخ رشید

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2020

ای میل

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد راولپنڈی میں ریل کار کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد راولپنڈی میں ریل کار کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن بند گلی میں داخل نہ ہوں کیونکہ پاکستان میں جب سیاست بند گلی میں داخل ہو جاتی ہے تو پھر حادثات جنم لیتے ہیں۔

راولپنڈی میں ریل کار کا افتتاح کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ریل کاروں میں فاصلے سے سفر کررہے ہیں اس لیے ہم نئی ریل کار کا ساڑھے چار بجے افتتاح کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کل ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہو کر رہے گا، مولانا فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کہ ہم ٹی ایل اے کے ملازمین کو بھی درجہ با درجہ کنفرم کرنے جا رہے ہیں اور پاکستان ریلوے پہلی آرگنائزیشن ہو گی کہ جو ایک سے چار گریڈ کے ملازمین ان ملازمین کو پنشن دینے جا رہی ہے اور ان کے چار سال سے رکے ہوئے بقایہ جات بھی ادا کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے اور میں پوری ذمے داری سے کہہ سکتا ہوں کہ ان جلسوں سے تو عمران خان نہیں جانے والا۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے لاٹھی کا جواب لاٹھی سے دینے کا اعلان کیا ہے تو یہ لاٹھی نہیں ہے، یہ قانون کی عملداری ہے، کورونا سے بچانے کا اہتمام ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول کو پشاور سے کورونا ہوا اور پشاور اور گوجرانوالہ کے بعد کورونا میں اضافہ ہوا ہے، اس سے بہتر بات شہباز شریف نے ڈائیلاگ کی کی ہے اور عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ نیب اور این آر او کے سوا تمام چیزوں پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سخت لاک ڈاؤن کا تقاضہ کرنے والوں کا اب جلسوں پر زور ہے، مراد سعید

وزیر ریلوے نے کہا کہ فضل الرحمٰن صاحب کافی آگے جا رہے ہیں، میں ان سے یہی گزارش کروں گا کہ بند گلی میں مت داخل ہوں، پاکستان میں جب سیاست بند گلی میں داخل ہو جاتی ہے تو پھر حادثات جنم لیتے ہیں، جب حادثات جنم لیتے ہیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ نتیجہ کیسے کیا نکلے گا، اگر سیاسی ڈرائیور غلط ڈرائیونگ کرے گا تو سیاسی حادثات کے امکانات ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چینی اور آٹے کی قیمت نیچے آئی ہے، یہ اور نیچے بھی آئیں گے، نئی کرشنگ شروع ہو گئی ہے، آٹے کی قیمت دو سے چار روپے کم ہوئی ہے اور چینی 10 سے 12 روپے کم ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے کی صورتحال پر کل آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں اجلاس ہوا ہے جس میں وزیر اعظم، آرمی چیف اور سارے سربراہان موجود تھے، ہماری آنکھیں کھلی ہیں اور خطے کی صورتحال پر ہماری فوج کی پوری نظر ہے، وزیر اعظم نے کل ایک اجلاس کی سربراہی کی ہے، اگر ہندوستان یہ سوچتا ہے کہ پاکستان کو دبایا جا سکتا ہے تو اس کی بھول ہے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان کو سرحدوں سے کوئی خطرہ نہیں، انٹرنیشنل سازش یہ ہے کہ پاکستان کو اندر سے انتشار اور خلفشار کا شکار کیا جائے، ہماری عظیم فوج سرحدوں پر منہ توڑ جواب دے گی اور جو لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ حالات ایسے نہیں ہیں، انٹرنیشنل سیاست ایک نئے دوراہے میں داخل ہو رہی ہے جس میں اندر کا انتشار زیادہ نقصان دہ ہے۔

مزید پڑھیں: ’کورونا میں ہمارا مقابلہ ایسی سیاسی قیادت سے ہے جس نے کبھی جمہوری جدوجہد نہیں کی‘

اسرائیل کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس کابینہ میں شیخ رشید ہو تو کیا وہاں کبھی اسرائیل تسلیم ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے ن سے ش نکلنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی شہباز شریف کی ایک مثبت رائے ہے اور نواز شریف کا بیانیہ مختلف ہے، کوئی سیاستدان مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتا، مسلم لیگ میں بھی ذمے دار لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ عظیم افواج کے لوگوں کے نام لے کر ان پر تنقید کی جائے، بالآخر ان کی سیاست ختم اور سیاست کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں اداروں کا کردار نہیں ہوتا، کیا پنٹاگون، سی آئی اے کا کردار نہیں ہوتا، ایم ون سکس کا کردار نہیں ہوتا، ہر کسی کا کردار ہوتا ہے لیکن ایک خاص مقصد کے لیے نشانہ بنانا اور دنیا میں یہ تاثر دینا کے آپ کوئی بہت بڑے لیڈر ہیں، یہ غلط ہے۔