پاکستان کی بھارت کی میزبانی میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

پاکستان نے بھارت کی میزبانی میں منعقد شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی — فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان نے بھارت کی میزبانی میں منعقد شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پارلیمانی سیکریٹری برائے امور خارجہ عندلیب عباس نے پیر کے روز ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہندوستان کے زیر اہتمام شنگھائی تعاون تنظیم کی حکومتی کونسل کے 19ویں سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے گزشتہ سال 2 نومبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت کی سربراہی کرنے والے ازبکستان سے یہ منصب سنبھالا تھا جہاں 2017 میں بھارت نے رکنیت حاصل کرنے کے بعد پہلی مرتبہ ایک سمٹ سطح کے اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے اپنی ایک سالہ مدت پوری کی تھی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا شنگھائی تعاون تنظیم سے خطاب، عالمی وبا کے اثرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششوں کا مطالبہ

عندلیب عباس نے علاقائی امن و استحکام کے حصول اور علاقائی پارٹنرز کے ساتھ کثیر الجہتی روابط اور قریبی تعلقات کی ترقی میں پاکستان کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے ایک محفوظ پڑوس بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے متنازع علاقوں میں غیر ملکی قبضے میں رہنے والے لوگوں پر ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بننے سمیت دہشت گردی کی تمام اقسام کی مذمت کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری نے نازی ازم اور اسلامو فوبیا سے متاثر ہوکر انتہا پسندی اور نسل پرستانہ واقعات میں حالیہ اضافے کے خلاف انتباہ جاری کیا۔

عندلیب عباس نے کووڈ-19 کے وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے تعاون، علم اور مہارت کے اشتراک کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ’قرض امداد سے متعلق عالمی اقدام‘ نے وبائی امراض کے منفی معاشی اثرات کو دور کرنے کے سلسلے میں ترقی پذیر ممالک کو مالی امداد کی فراہمی کی وکالت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطے اور انضمام کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کو ایک اہم ربط کی حیثیت سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)، صنعتی پارکس اور توانائی کے منصوبوں کے تحت رابطے کے منصوبے خوشحال اور عالمی سطح پر منسلک خطے کے مستقبل کو شکل دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کی سبکی

ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں پارلیمانی سیکریٹری نے فورم کو وزیر اعظم کے 'ماحولیاتی نظام کی بحالی کے اقدام' کے بارے میں آگاہ کیا جس میں اگلے تین سالوں میں 10 ارب درخت لگانا بھی شامل ہے۔

انہوں نے غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی ورکنگ گروپ (ایس ڈبلیو جی) بنانے کے لیے پاکستان کے اقدام کی حمایت کرنے پر رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا، یہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے مابین تجربات اور خیالات کے تبادلے کا ایک موقع فراہم کرے گا۔

انہوں نے تعلیمی اداروں کے مابین شراکت کے قیام، اسکالرشپ اور سائنسی شعبے میں نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام پیش کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی کثیر الجہتی شنگھائی تعاون تنظیم یوتھ اسٹریٹجی کی تجویز کا اعادہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیر اعظم عمران خان کا اقدام ترقی پذیر ممالک سے غیر قانونی مالی بہاؤ کی مخالفت اور چوری شدہ دولت واپس لانے کی حمایت کرتا ہے جو متاثرہ ممالک کے ترقیاتی مقاصد کے حصول میں انہیں مدد فراہم کرے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کی حکومتی سربراہان کی کونسل بنیادی طور پر اقتصادی اور تجارتی تعاون پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بن گیا

اس سے قبل وزیر اعظم خان نے 10 نومبر 2020 کو ورچوئل فارمیٹ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظم کونسل آف ہیڈس آف اسٹیٹ میں شرکت کی تھی جو تنظیم کا اعلیٰ ترین فورم ہے۔

علاقائی استحکام، سلامتی اور جامع معاشی ترقی کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم سازگار ماحول کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کو اہم عالمی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بڑھتی ہوئی شمولیت اور وسط ایشیا کے ساتھ مزید روابط کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔