لوگ کووڈ 19 سے دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں، عالمی ادارہ صحت

06 دسمبر 2020
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

عالمی ادارہ صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر افراد دوبارہ بھی کووڈ 19 کا شکار ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ اینٹی باڈی ردعمل میں کمی آنا ہے۔

عالمی ادارے کے عہدیداران نے یہ بیان حالیہ ڈیٹا کو بنیاد بناتے ہوئے دیا۔

عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک ریان نے جمعے کو پریس بریفننگ کے دوران کہا 'ہم نے ایسے ڈیٹا کو دیکھا ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ایک بار بیمار ہونے کے بعد اس بیماری کے خلاف تحفظ زندگی بھر کے لیے نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے دوبارہ بیماری کے کیسز کو دیکھا'۔

انہوں نے کہا 'تو سوال یہ ہے کہ معاشرے کو ملنے والے تحفظ کی سطح کیا ہے؟'

پاکستان میں بھی نومبر میں ایسا پہلا کیس سامنے آیا تھا جب مردان سے تعلق رکھنے والے شہری میں پہلی بیماری کے 4 ماہ بعد دوبارہ کووڈ کی تشخیص ہوئی۔

تاہم ابھی تک دنیا بھر کے محققین یہ تعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ کس طرح اور کب کوئی فرد دوبارہ کووڈ 19 کا شکار ہوسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنگ ڈیزیز و زونیسز کی سربراہ ماریہ وان کرکوف نے اس حوالے سے بتایا کہ محققین کی جانب سے تاحال تعین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اینٹی باڈی تحفظ پہلی بیماری کے بعد کب تک برقرار رہ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا 'ہم اب تک جو سمجھ سکے ہیں کورونا وائرس سے متاثر 90 سے سو فیصد افراد میں اینٹی باڈی ردعمل پیدا ہوتا ہے، چاہے بیماری کی شدت معمولی ہو، علامات نمودار نہ ہو یا اس کی شدت سنگین ہو'۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ کے خلاف مدافعتی ردعمل 6 ماہ یا اس سے زائد عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔

حال ہی میں ایک برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں کم از کم 6 ماہ تک دوبارہ اس بیماری میں مبتلا ہونے امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

اس تحقیق کو اپریل سے نومبر تک جاری رکھا گیا تھا جس میں آکسفورڈ یونیورسٹی ہاسپٹلز کے 12 ہزار سے زیادہ ورکرز کو شامل کیا گیا تھا۔

نتائج میں دریافت کیا گیا کہ 11 ہزار میں سے 89 افراد میں اینٹی باڈیز موجود نہیں تھیں اور انہیں علامات کے ساتھ بیماری کا سامنا ہوا، جبکہ اینٹی باڈیز والے 1246 افراد میں علامات کے ساتھ بیماری نظر نہیں آئی۔

ماریہ وان نے بتایا 'کچھ افراد میں ممکنہ طور پر اینٹی باڈیز چند ماہ ختم ہونے لگتی ہیں، مگر ایسے اشارے موجود ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ بیمار ہونے والے افراد میں مدافعتی ردعمل چند ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے، ابھی وبا کو ایک سال ہی ہوا ہے تو ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے'۔

اگست میں کووڈ 19 سے دوسری بار بیمار ہونے کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی تھی۔

ہانگ کانگ کے محققین نے کورونا وائرس سے دوسری بار بیمار ہونے کے پہلے مصدقہ کیس کی تصدیق کی۔

اس کے بعد امریکا، نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں بھی ایسے کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں