قطر-سعودی عرب کے درمیان سرحد تین سال بعد کھول دی گئی

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2021

ای میل

سعودی عرب نے  جنوری کو قطر کے ساتھ معاہدے کے تحت تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا تھا—فوٹو:رائٹرز
سعودی عرب نے جنوری کو قطر کے ساتھ معاہدے کے تحت تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا تھا—فوٹو:رائٹرز

قطر اور سعودی عرب نے ساڑھے تین سال سے جاری تنازع کے خاتمے کے تاریخی معاہدے کے بعد زمینی رابطہ بحال کرتے ہوئے سرحد کھول دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قطری ذرائع کا کہنا تھا کہ دوحہ سے 120 کلومیٹر جنوب میں ابو سمرہ سرحد پر ٹریفک کی روانی ہفتے کی صبح سویرے شروع ہوگئی۔

سرحد کھولنے کی خبر کے بعد صرف چند کاروں کی قطار نظر آئی اور سعودی عرب جانے کے لیے چیک پوسٹ پر کھڑی ہوگئیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے قطر سے مکمل تعلقات بحال

دوسری جانب سعودی عرب سے بھی بہت کم آمد ہوئی جس کی ایک وجہ کورونا وائرس کے باعث اپنائے گئے سخت اقدامات بھی ہیں۔

سعودی عرب جانے کے لیے سرحد میں چیک پوسٹ پر پہنچنے والے قطر کے شہری جبیر المری کا کہنا تھا کہ 'میں بہت خوش ہوں کہ سرحد دوبارہ کھل گئی ہے، قطریوں کے رشتہ دار سعودی عرب میں موجود ہیں'۔

قطر کے ایک اور شہری حماد المری کا کہنا تھا کہ وہ خلیج کی مشہور شکار گاہ میں شکار کا موقع ملنے پر بہت خوش ہیں اور ہفتہ وار چھٹیاں وہاں گزاریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہاں جا کر شکار بھی کروں گا اور اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزاروں گا۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ 'ہم سعودی عرب میں اپنے خاندانوں سے ملیں گے اور اس اقدام سے ہر ایک خوش ہے کہ ہم مکہ اور مدینہ جاسکتے ہیں'۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے جون 2017 میں قطر کے ساتھ سرحد کو مکمل طور پر بند کرتے ہوئے دیگر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کا 9 جنوری کو قطر کے ساتھ سرحد کھولنے کا امکان

سعودی عرب نے دہشت گردوں کی معاونت اور ایران کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ اقدام کیا تھا جبکہ قطر مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتا رہا۔

قطر کے خلاف اقدامات میں سعودی عرب کے ساتھ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر بھی شامل ہوگئے تھے اور تمام ممالک نے تجارت اور سفر سمیت تمام رابطوں کو منقطع کردیا تھا۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے شہر العلا میں خلیج تعاون تنظیم (جی سی سی) کے اجلاس میں قطر کے امیر نے بھی شرکت کی تھی جہاں تعلقات کی بحالی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے تھے۔

جی سی سی کے اجلاس سے ایک روز قبل کویت کے وزیرخارجہ احمد نصیر الصباح نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا تھا کہ معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے اور اس کے تحت سعودی عرب اور قطر فضائی، زمینی اور بحری راستے بحال کریں گے۔

خیال رہے کہ 6 جنوری کو سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے قطر کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

سعودی عرب کے شہر العلا میں 6 رکنی خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہی اجلاس میں ’یکجہتی، استحکام‘ کے نام سے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جی سی سی اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ 'آج ہمیں اپنے خطے میں اتحاد کو فروغ دینے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے'۔

مزید پڑھیں: قطر سے سفری و تجارتی تعلقات ایک ہفتے میں بحال ہو سکتے ہیں، یو اے ای

انہوں نے کہا تھا کہ 'خاص طور پر ایرانی حکومت کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام اور تخریب کاری اور تباہی کے منصوبوں سے لاحق خطرات بڑے چیلنجز ہیں'۔

بعد ازاں متحدہ عرب امارات کے عہدیدار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ عرب ریاستیں امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایک ہفتے کے اندر قطر کے ساتھ بائیکاٹ کے خاتمے کے بعد دوبارہ تجارت اور سفری رابطے بحال کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ سفارتی تعلقات کی بحالی میں مزید وقت لگے گا کیونکہ فریقین کو اعتماد کی بحالی میں وقت درکار ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ انور قرقاش نے کہا تھا کہ ان اقدامات میں عملی طور پر ایئرلائنز، شپنگ اور تجارت شامل ہے۔

قطر ایئرویز کا کہنا تھا کہ اس کی بعض پروازیں سعودی فضائی حدود سے شروع کی جائیں گی۔