پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی غیرقانونی سوسائٹیز کو بنی گالا ماڈل کی طرز پر ریگولرائز کرنے کی تجویز

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2021

ای میل

اسلام آباد میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے بنی گالا ریگولرائزیشن ماڈل کے اطلاق کا مشورہ دیا گیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
اسلام آباد میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے بنی گالا ریگولرائزیشن ماڈل کے اطلاق کا مشورہ دیا گیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو اسلام آباد میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو قانونی حیثیت دینے کے لیے بنی گالا ریگولرائزیشن ماڈل کے اطلاق کا مشورہ دیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا، آڈٹ حکام کو بتایا گیا کہ 6 ہزار کنال پر غوری ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیر سے قومی خزانے کو 30 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

مزید پڑھیں: بنی گالا تھانے کا عملہ وزیراعظم کی شکایت پر برطرف

دوسری جانب سی ڈی اے کے چیئرمین عامر علی احمد نے کہا کہ نجی سوسائٹی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے لیکن چونکہ یہ کوئی اعلیٰ درجے کی اسکیم نہیں تھی اور نچلے متوسط ​​طبقے کے لوگ وہاں رہائش پذیر تھے لہٰذا شہری ایجنسی اس کی طرف متفق تھی۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ دارالحکومت کے ماسٹر پلان کی تیاری اور غیر قانونی سوسائٹیز کو ریگولرائز کرنے کے سلسلے میں ایک جامع تجویز پیش کرنے کے لیے ایک کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے تجویز پیش کی کہ سی ڈی اے یہاں بھی بنی گالہ کا اطلاق کرے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے کچھ رہنما اصولوں کی بنیاد پر بنی گالہ کی غیر مجاز تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد سی ڈی اے نے مشروط طور پر وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ کی منظوری دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا بنی گالا کا گھر ریگولرائز ہوگیا

مشاہد حسین سید نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ بنی گالہ ماڈل کے تحت غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ریگولرائز بنانے کے لیے راتوں رات کام کیا جائے گا، اس دوران سی ڈی اے کے چیئرمین نے کہا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد تین سے چھ ماہ کے اندر ہو گا۔

پارک ویو سٹی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کی زیر ملکیت نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے 'لے آؤٹ منصوبے کی بحالی' کی تحقیقات کرنے کا بھی حکم دیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پارک ویو سٹی نے قومی خزانے کو 2.1 ارب روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔

آڈٹ میں بتایا گیا کہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ ریجنل پلاننگ نے 14 فروری 2013 کو پارک ویو سٹی کو ایک این او سی جاری کیا تھا جو شہری ایجنسی کے نام پر سہولیات کے لیے اراضی کی منتقلی نہ کرنے کی وجہ سے 7 نومبر 2014 کو منسوخ کردیا گیا تھا۔

منسوخ این او سی کو تقاضے پورے نہ ہونے کے باوجود سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ نے 2018 میں بحال کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'بنی گالا کا علاقہ سی ڈی اے نہیں پنجاب کی ملکیت ہے'

کابینہ کے سیکریٹری یوسف نسیم کھوکھر نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق این او سی منسوخ کردی گئی ہے۔

تاہم کمیٹی کے چیئرمین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ سراسر خلاف ورزی ہے اور بادی النظر میں یہ مناسب لگتا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات نیب کرے، اس کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اراکین کی رضامندی سے کیس کو تفتیش کے لیے احتساب بیورو کے پاس بھیج دیا گیا۔

تاہم پی ٹی آئی کی قانون ساز منزہ حسن اس سڑک پر بحث کرنا چاہتی تھیں جو ہاؤسنگ سوسائٹی کو کوری روڈ سے ملاتی ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین تنویر حسین نے جواب دیا کہ چونکہ انہوں نے پہلے ہی اس معاملے کو نیب کے حوالے کر دیا تھا لہٰذا اب اس معاملے کو اٹھانے کا انحصار نیب پر ہے۔

صفا گولڈ مال

گوکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اراکین کا خیال تھا کہ اسلام آباد کے ایف۔7 علاقے میں ایک کثیر المنزلہ شاپنگ سینٹر صفا گولڈ مال کو ہسپتال میں تبدیل کیا جائے گا لیکن چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا کہ اس کو ’ون آئین‘ کی عمارت کے تحت ریگولرائز کیا جاسکتا ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد نے بتایا کہ یہ پلاٹ اصل میں شہری ایجنسی کے ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ کا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسے ایف-11 میں منتقل کردیا گیا تھا اور پھر اس مال کے مالکان کو قانون کے مطابق نیلام کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’بنی گالا میں عمران خان کے گھر کا سائٹ پلان منظورشدہ نہیں‘

اس کے بعد مالک نے پلاٹ پر تین اضافی منزلیں تعمیر کیں، انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈی اے کے چار اہلکار گرفتار ہوئے تھے اور اب انہیں صفا گولڈ مال کی تین اضافی منزلوں کی تعمیر میں مبینہ طور پر ملی بھگت پر نیب ریفرنس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔