پاکستان مخالف غلط معلومات میں بھارتی حکومت کے کردار پر یورپی پارلیمنٹ میں گفتگو

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2021

ای میل

یورپی پارلیمنٹ نے ڈس انفو لیب کی جانب سے کیے گئے انکشافات پر سوال اٹھایا کہ کیا اس مہم میں بھارتی حکومت ملوث ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
یورپی پارلیمنٹ نے ڈس انفو لیب کی جانب سے کیے گئے انکشافات پر سوال اٹھایا کہ کیا اس مہم میں بھارتی حکومت ملوث ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

یورپی پارلیمنٹ نے جیو پولیٹیکل تناظر میں تیسرے ممالک کی مداخلت کے ممکنہ خطرات کے بارے میں سماعت کی اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا گزشتہ سال یورپی یونین کی ڈس انفولیب کے ذریعے منظر عام پر لائی جانے والی وسیع پیمانے پر ڈس انفارمیشن مہم میں بھارتی حکومت ملوث ہے؟

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ سماعت یورپی پارلیمنٹ کی خصوصی خارجہ مداخلت سے متعلق خصوصی کمیٹی کا حصہ تھی جس میں چین، ایران، ہندوستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ماہرین سے عملی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا، اس مباحثے کی صدارت یورپی پارلیمنٹ کے رکن رافیل گلکس مین نے کی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر لابی کرنے والا بھارتی نیٹ ورک بے نقاب

پچھلے سال ایک یورپی گروپ ای یو ڈس انفولیب نے ایک تحقیقات کے ذریعے انڈین کرونیکلز کے نام سے ایک ایسے بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جس نے یورپ میں ہندوستان کی حمایت اور پاکستان اور چین مخالف جذبات کو تقویت دینے کے لیے منظم طریقے سے کام کیا۔

کمیٹی کے ایک رکن وی بلیک نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈس انفارمیشن ایک اہم سیاسی مسئلہ ہے اور اس سال مئی میں انڈیا-یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں یورپی یونین کو اس معاملے کو ضرور اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے ماہرین سے پوچھا کہ میں یہ سوالات کرنا چاہتا ہوں کہ ان کوششوں کا ریاستی کفالت سے کتنا تعلق ہے، ان ماہرین میں تحقیقات کی رہنمائی کرنے والے یورپی یونین کی ڈس انفو ٹیم کے اراکین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید دریافت کیا کہ 'کیا ہمارے پاس اس پر تفصیلی ڈیٹا ہے؟ کچھ ہندوستانی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ شاید چند رابطے میں ہوں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ نیٹ ورک ریاست سے آزاد چلتا ہو؟'

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں منظم دہشت گردوں کا کوئی اسٹرکچر موجود نہیں، ترجمان پاک فوج

انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ بھارت جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

ایک اور رکن پارلیمنٹ ای جیمت نے زیر بحث آئے موضوع کو مستثنیٰ کردیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ یورپی یونین ڈس انفولیب انکوائری کو کس نے مالی اعانت فراہم کی، مجھے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ مداخلت سے متعلق ہمیں اس کمیٹی کی ضرورت کیوں ہے، ریاستی خدمات میں یہ کام ہوتا ہے، مجھے حیرت ہے کہ ہندوستان ایجنڈے پر ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ انکوائری بھارت پر تنقید کر رہی ہے کیونکہ یہ شرم کی بات ہے کہ بھارت فرانس کا اسٹریٹجک شراکت دار اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔

رافیل گلکس مین نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ ہم بہت ہی اصل چیزوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہم ان ممالک کے بارے میں جیو پولیٹیکل فیصلے جاری کرنے کے بارے میں بات نہیں کررہے ہیں جن کا ہم مطالعہ کرتے ہیں، ہم صرف یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم کس طرح یورپ میں ہونے والے مباحثوں میں مداخلت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پروپیگنڈا مہم: بھارت کے اظہار لاتعلقی پر پاکستان کا جوابی وار

یورپی یونین ڈس انفو لیب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الیگزینڈر ایلا فلپ نے کہا کہ اس کے پیچھے کسی شخص یا کسی ریاست کی باضابطہ شناخت کرنا مشکل ہے، ہندوستانی کرانیکلز ایک آپریشن ہے جو 15 سال سے جاری ہے، اس نے ہندوستان کے مفاد میں چیزوں کو آگے بڑھایا، یہ وہ چیز نہیں ہے کہ کسی نے اپنے کمرے میں خواب دیکھا ہو، اس کے لیے بہت زیادہ ہم آہنگی اور بہت سارے ذرائع کی ضرورت ہے، کچھ ایسے مواقع ہیں جن کو ہم دیکھ رہے ہیں، عمل کرنے کی واضح کوشش، مضبوط ارادیت اور اس کے پیچھے بہت سارے تعاون واضح ہے۔

رومن ایڈمزک جو یورپی یونین کی ڈس انفولیب ریسرچ ٹیم کا حصہ ہیں، نے برقرار رکھا کہ ان کے گروپ کی تفتیش میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو متاثر کرنے کے لیے کچھ عناصر کے ذریعے استعمال کیے گئے ہتھکنڈوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور یہ کسی بھی طرح سے پاکستان میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کی صورتحال یا ہندوستان اور پاکستان کے مابین جیو پولیٹیکل تناؤ کا فیصلہ نہیں کرتے، ایڈمزک نے بتایا کہ پوری ٹیم کے ذریعے 'انڈین کرانیکلز' کا مطالعہ کئی مہینوں میں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ غلط معلومات کے نیٹ ورک کو غیر فعال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اہداف ہمیشہ واضح نہیں ہوتے، انڈین کرانیکلز میں ہمارا ڈوزیئر ہندوستانی ریاست کے نیٹ ورکوں کی طرف نہیں لیکن ہندوستان میں زیادہ نجی محرکات کی جانب دیکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیق میں غلط اطلاعات اور ہیرا پھیری اور برسلز کے سیاسی ماحولیاتی نظام پر اثر انداز ہونے کے لیے جھوٹے میڈیا آؤٹ لیٹس کے استعمال پر توجہ دی گئی ہے تاکہ وہ ہندوستان کے حق میں داستان بیان کرسکیں۔