جامعہ کراچی کے اساتذہ کا آئی بی اے کے طلبہ کے مبینہ تشدد کےخلاف احتجاج

15 فروری 2021
---فائل فوٹو: ڈان نیوز
---فائل فوٹو: ڈان نیوز

جامعہ کراچی (کے یو) کے اساتذہ کی جانب سے اپنے ایک فیکلٹی ممبر پر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے طلبہ اور گارڈز کے مبینہ تشدد پر احتجاج کیا گیا۔

کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی (کٹس) کے صدر ڈاکٹر شاہ علی القدیر نے بتایا کہ جامعہ میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

مزیدپڑھیں: جامعہ کراچی کے طلبہ کا سمسٹر امتحانات کے خلاف احتجاج

انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کی جانب سے کلاسز کا بائیکاٹ کرنے کے بعد شہر کی سب سے بڑی سرکاری جامعہ میں تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔

واقعے کے بارے میں ڈاکٹر شاہ علی القدیر نے بتایا کہ جامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے ایک استاد مصطفیٰ حیدر یونیورسٹی کے احاطے میں کار میں جارہے تھے اور جب وہ آئی بی اے کیمپس کے سامنے سے گزر رہے تھے اور اسی دوران آئی بی اے کے 3 طالب علم مرکزی سڑک پر کھڑے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب مصطفیٰ حیدر نے انہیں راستے سے ہٹنے کا اشارہ کیا تو طلبہ نے مبینہ طور پر فیکلٹی ممبر کے خلاف ناپسندیدہ زبان کا استعمال کیا حالانکہ وہ انہیں بتا چکے تھے کہ وہ جامعہ کراچی میں استاد ہیں۔

مزیدپڑھیں: جامعہ کراچی یا جامعہ مسائل؟

جامعہ کراچی کی ٹیچرز سوسائٹی کے صدر کے مطابق مصطفیٰ حیدر نے اپنی گاڑی پارک کی اور وہ جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلنے تب دو طلبا نے ان پر تشدد کیا۔

انہوں نے بتایا کہ طلبا نے آئی بی اے کے سیکیورٹی گارڈز کو بھی بلایا اور انہوں نے بھی مصطفیٰ حیدر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ڈاکٹر شاہ علی القدیر نے مطالبہ کیا کہ طلبا کو خارج اور محافظوں کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ آئی بی اے معافی بھی مانگے۔

انہوں نے کہا کہ آئی بی اے نے مبینہ طور پر معافی مانگ لی ہے اور اس ضمن میں ایک انضباطی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جس میں کٹس کو واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک نمائندہ نامزد کرنے کی دعوت دی ہے۔

مزیدپڑھیں: جامعہ کراچی میں 'موٹروے جیسا واقعہ' کے عنوان سے سوشل میڈیا پوسٹ پر غم و غصہ

انہوں نے مزید کہا کہ کٹس فیکلٹی کے ایک سینئر ممبر کو نامزد کیا جائے گا۔

جامعہ کراچی ٹیچرز سوسائٹی کے صدر کے مطابق کہ کے یو انتظامیہ نے آئی بی اے کے طلبہ اور گارڈز کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے بھی تھانے میں درخواست جمع کرائی ہے۔

دریں اثنا آئی بی اے نے واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’معاشرے کے کسی بھی فرد کی جانب سے اساتذہ کے خلاف کسی بھی طرح کی بدسلوکی کی شدید مذمت کی جاتی ہے‘۔

فیس بک پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں آئی بی اے نے کہا کہ اس معاملے کو ضروری کارروائی کے لیے آئی بی اے ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ آئی بی اے کسی بھی بدانتظامی کے سدباب کے لیے سخت اقدامات کرتی ہے اور وہ کسی بھی ایسے فعل کو برداشت نہیں کریں گے جس سے آئی بی اے کو بد نام کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ آئی بی اے کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرے گا اور مستقبل میں اساتذہ کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں