'پروگرام میں متنازع گفتگو' پر احتجاج، کراچی میں جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر حملہ

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021
— ڈان نیوز اسکرین شاٹ
— ڈان نیوز اسکرین شاٹ
— ڈان نیوز اسکرین شاٹ
— ڈان نیوز اسکرین شاٹ

ایک پروگرام میں مبینہ طور پر سندھ اور یہاں کے عوام سے متعلق متنازع گفتگو کیے جانے پر احتجاج کے دوران نجی نیوز چینل جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر مظاہرین نے حملہ کردیا۔

نجی چینل کے مطابق مظاہرین نے واک تھرو گیٹ اور مرکزی دروازہ توڑ دیا اور عملے پر بھی تشدد کیا۔

مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور عملے پر تشدد کے بعد گروپ کے دفتر کے سامنے دھرنا دے دیا اور مطالبہ کیا کہ جیو کے ایک پروگرام میں کی گئی متنازع بات کی وضاحت دی جائے۔

میڈیا گروپ پر مظاہرین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ اس کے ایک پروگرام میں صوبہ سندھ اور یہاں کے عوام کی تذلیل کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: کراچی: جیو نیوز کے ’لاپتا‘ رپورٹر علی عمران سید گھر پہنچ گئے

واضح رہے کہ احتجاج سے قبل جیو نیوز کی جانب سے مزاحیہ پروگرام خبرناک کے میزبان اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے حوالے سے ایک وضاحتی بیان بھی نشر کیا گیا تھا۔

پروگرام کے میزبان نے وضاحت کی تھی کہ پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو میں انہوں نے کسی کو بھی تذلیل کا نشانہ نہیں بنایا۔

علاوہ ازیں کراچی میں جیو نیوز دفتر پر حملے کے حوالے سے جیو نیوز چینل کے رپورٹر نے بتایا کہ پروگرام کے میزبان اپنا وضاحتی بیان جاری کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود مظاہرین کی جانب سے توڑ پھوڑ اور تشدد کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مظاہرین عملے کو دھکے دیتے ہوئے دفتر کے اندر داخل ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مظاہرین نے کہا کہ جیو کے پروگرام میں استعمال ہونے والی زبان سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس پر جیو کی انتظامیہ کو معافی مانگنی چاہیے‘۔

جیو کے دفتر کے ساتھ مظاہرین دھرنا دے کر بیٹھ گئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود تھی۔

اس حوالے سے جیونیوز کے بیورو چیف فہیم احمد صدیقی نے بتایا کہ مظاہرین استحقاق رائے کا حق رکھتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر پروگرام سے متعلق ویڈیو ایڈٹ کرکے اپ لوڈ کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ جس بنیاد پر احتجاج کیا جارہا ہے درحقیقت پروگرام میں وہ بات اس طرح سے نہیں کی گئی تھی جس طرح سوشل میڈیا پر ایڈٹ کی گئی ویڈیو میں پیش کی گئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ایک سال میں 7 صحافی قتل کردیے گئے، رپورٹ

فہیم احمد نے بتایا کہ اس کے باوجود جیو نیوز کے اسی پروگرام میں وضاحت کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایکشن لینا چاہیے کیونکہ مظاہرین نے دفتر پر حملے سے متعلق باقاعدہ اعلان کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس سے حملے کی رپورٹ طلب کرلی

بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جیو نیوز کے دفتر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔

انہوں نے جیو نیوز کے چیف ایگزیکٹو افسر اظہر عباس سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

صوبائی چیف ایگزیکٹو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’جو بھی اس واقعے میں ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی کریں گے‘۔

وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے باور کرایا کہ ہم نے پوری زندگی میڈیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے اور ’پیپلز پارٹی میڈیا کی آواز دبنے نہیں دے گی‘۔

جیو، جنگ کے دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، شبلی فراز

اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طنز و مزاح کا پروگرام تھا اور اگر کسی بات پر جذبات کو ٹھیس پہنچی تو اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کا مناسب طریقہ اپنانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ کراچی میں پیش آیا اس لیے فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری حکومت سندھ پر عائد ہوتی ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ایسی صورتحال جنم لے رہی تھی پولیس نے ایکشن کیوں نہیں لیا۔

انہوں نے جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر حملے کے بارے میں کہا کہ محرکات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

علاوہ ازیں صدر پریس کلب فاضل جمیلی نے بھی حملے کی مذمت کی۔

مزید پڑھیں: صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے 'اغوا'

انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب حملے کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور حکومت سندھ سے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پوری صورتحال میں پولیس کا کردار ایک سوالیہ نشان رہا۔

علاوہ ازیں سندھ حکومت کے وزیر اطلاعات ناصر شاہ نے کہا کہ واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے ایس پی کا حوالہ دے کر بتایا کہ مظاہرین نے پریس کلب سے شاہین کمپلیکس تک جانا تھا لیکن وہ آگے بڑھ گئے جو قطعی غیر مناسب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے قانون ہاتھ میں لیا ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی ہدایت کی ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کراچی پولیس چیف اے آئی جی غلام نبی میمن نے بتایا کہ ’یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے‘ اور پولیس ’ایف آئی آر درج کرے گی اور اس حملے کے ذمہ دار ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا‘۔

اے آئی جی نبی میمن نے مزید کہا کہ ’ہم ان پولیس افسران کے خلاف بھی انکوائری کریں گے جو واقعے کو روکنے میں ناکام ہوئے‘۔

مشتاق سرکی کی کراچی پریس کلب کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب کراچی پریس کلب نے صحافی مشتاق سرکی کی ممبر شپ معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

جیو نیوز کے خلاف مظاہرے میں مشتاق سرکی پیش پیش تھے اور اسی مظاہرے میں شامل مظاہرین نے نہ صرف جیو اور جنگ کے دفتر پر حملہ کیا بلکہ ملازمین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

کراچی پریس کلب کی مجلس عاملہ نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مشتاق سرکی کی ممبر شپ معطل کر کے ان کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پریس کلب کی مجلس عاملہ کا کہنا تھا کہ صحافی ہمیشہ غیرجانبدار ہوتا ہے اور اپنے قلم کے ذریعے مسائل پر بات کرتا ہے۔

مجلس عاملہ کے مطابق کسی بھی صحافی کی جانب سے مظاہرے کے نام پر میڈیا کے ادارے میں توڑ پھوڑ جیسے اقدامات نا قابل برداشت ہیں۔

پروگرام کے میزبان کی وضاحت

خیال رہے کہ گروپ پر مظاہرین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ان کے ایک پروگرام میں دوران گفتگو صوبہ سندھ اور یہاں کے عوام سے متعلق تذلیل آمیز رویہ اختیار کیا گیا تھا جس کی وضاحت دی جائے۔

احتجاج سے قبل جیو نیوز کی جانب سے مزاحیہ پروگرام خبرناک کے میزبان اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے حوالے سے ایک وضاحتی بیان بھی نشر کیا گیا تھا۔

پروگرام کے میزبان نے وضاحت کی تھی کہ پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو میں انہوں نے کسی کو بھی تذلیل کا نشانہ نہیں بنایا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’سندھ کے عوام نے پروگرام کو بہت پسند کیا تو ساتھ ہی ایک دو جملوں پر اعتراض کیا، میں سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ طنز و مزاح کا پروگرام ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جس طرح مجھے خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پیارے ہیں اسی طرح سندھ اور سندھی میرے وجود کا حصہ ہیں‘۔

ارشاد بھٹی نے کہا تھا کہ سندھ اور سندھیوں کے لیے میری جان بھی حاضر ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں