یوٹیوب سے کووڈ ویکسینز کے خلاف گمراہ کن تفصیلات والی 30 ہزار ویڈیوز ڈیلیٹ

13 مارچ 2021
— رائٹرز فائل فوٹو
— رائٹرز فائل فوٹو

یوٹیوب نے کووڈ 19 ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن تفصیلات شیئر کرنے والی 30 ہزار ویڈیوز کو ڈیلیٹ کردیا۔

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ تفصیلات کمپنی کی جانب سے کورونا وائرس ویکسینز کے حوالے گمراہ کن مواد کی پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے 6 ماہ بعد سامنے آئی ہیں۔

اکتوبر 2020 سے قبل یوٹیوب نے کورونا وائرس کے حوالے سے تو مؤقف سخت رکھا تھا مگر ویکسینز کے حوالے سے زیادہ زور نہیں دیا جارہا تھا۔

تاہم پھر پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کووڈ 19 سے متعلق ویڈیوز اور سرچز کے حوالے سے حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے انفارمیشن پینلز میں ویکسینیشن کے بارے میں تفصیلات کے لنک کا اضافہ کردیا تھا۔

نئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال فروری سے اب تک یوٹیوب نے کورونا وائرس کے حوالے سے گمراہ کن تفصیلات پھیلانے والی 8 لاکھ سے زیادہ ویڈیوز کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹایا ہے۔

ویکسینز کی دستیابی بڑھنے سے ان کے حوالے سے گمراہ کن مواد کا مسئلہ بھی بڑھ چکا ہے اور اسی وجہ سے فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی اپپنی پالیسیوں کو مزید بہتر کیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے تمام ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن مواد کی روک تھام کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے مگر یوٹیوب کی پالیسیوں میں بس ایسی ویڈیوز کے خلاف کارروائی کا ذکر ہے، جن کے مواد میں عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں کی گائیڈلائنز سے متضاد تفصیلات موجود ہوں گی۔

اکتوبر 2020 میں گوگل نے اعلان کیا تھا کہ یوٹیوب پر کووڈ 19 ویکسینز کے حوالے سے جھوٹی اور گمراہ کن تفصیلات پر مبنی ویڈیوز کو ہٹایا جائے گا۔

کمپنی کی جانب سے ہر اس مواد پر پابندی عائد کی جائے گی جس میں عالمی ادارہ صحت یا کسی ملک کی طبی انتظامیہ کی سفارشات سے متضاد معلومات دی جائے گی۔

کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اس کی جانب سے ایسی ویڈیوز کو بھی ہٹانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کے تحت ایسی ویڈیوز کو پلیٹ فارم سے ڈیلیٹ کیا جائے گا جن میں کہا جائے گا کہ کووڈ 19 ویکسین سے لوگوں کی ہلاکت ہوسکتی ہے، یا وہ بانجھ پن کا شکار ہوسکتے ہیں یا یہ ایک ایسا ذریعہ ہوگا جو حکومتوں کو لوگوں میں نگرانی کرنے والی چپ نصب کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

تاہم بظاہر کمپنی کی جانب سے اینٹی ویکسین مواد کو مکمل طور پر پلیٹ فارم سے ہٹانے کا منصوبہ نہیں۔

کمپنی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ویکسین کے حوالے سے 'بڑے خدشات' کو بیان کرنے والی ویڈیوز کو نہیں ہٹایا جائے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں