کیا فیس بک پاکستان میں 'ویڈیو مونیٹائزیشن' کا آغاز کررہا ہے؟

اپ ڈیٹ 29 مارچ 2021

ای میل

فیس بک کئی ممالک میں لوگوں کو ویڈیوز کے عوض پیسے فراہم کر رہا ہے—فائل فوٹو: ٹوئٹر
فیس بک کئی ممالک میں لوگوں کو ویڈیوز کے عوض پیسے فراہم کر رہا ہے—فائل فوٹو: ٹوئٹر

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے اگرچہ دنیا بھر میں ویڈیوز اور دیگر مواد کے عوض کانٹنیٹ کریئٹرز (مواد تیار کرنے والے) کو پیسے دینا شروع کر دیے ہیں۔

تاہم پاکستان میں تاحال عام کانٹنیٹ کریئٹرز کے لیے ایسی سہولیات شروع نہیں کی گئیں مگر حکومت کی خواہش ہے کہ ایسی سہولیات یہاں بھی شروع ہوں۔

فیس بک کے علاوہ یوٹیوب اور گوگل اشتہارات اور مونیٹائزیشن یعنی مواد کے ذریعے پیسے کمانے کے منصوبے کے تحت مواد تیار کرنے والوں کو رقم فراہم کرتا ہے۔

حال ہی میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کے سائنس و ٹیکنالوجی کے مشیر ضیاءاللہ بنگش نے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک جلد پاکستان میں ویڈیوز کے عوض پیسے دینے کا سلسلہ شروع کردے گا۔

ضیاء اللہ بنگش نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں بتایا تھا کہ کہ انہوں نے فیس بک کی سنگاپور میں موجود ٹیم سے رابطہ کیا ہے اور وہ پاکستان میں مختلف منصوبے شروع کرنے کو تیار ہیں۔

ضیاء اللہ بنگش کے مطابق انہوں نے سنگاپور میں فیس بک کے نمائندوں سے طویل مذاکرات کیے، جس دوران فیس بک عہدیداروں نے پاکستان میں چند منصوبے شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر کے مطابق فیس بک پاکستان میں مواد کے عوض پیسے دینے کا سلسلہ شروع کرنے سمیت دیگر منصوبے بھی شروع کرے گا جب کہ فیس بک پاکستان میں دفتر بھی کھولے گا۔

ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ انہوں نے فیس بک کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو بھی آگاہ کیا ہے اور انہوں نے بھی فیس بک سمیت گوگل اور یوٹیوب کے لیے پاکستان میں بہتر کام کرنے کے حوالے سے قانون سازی کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر کا کہنا تھا کہ جلد وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اسد قیصر کی سربراہی میں فیس بک اور یوٹیوب سمیت دیگر بڑی ویب سائٹس سے مذاکرات شروع ہوں گے اور جلد ہی پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع کھلیں گے۔

تاہم ضیاء اللہ بنگش کے دعووں کے بعد فیس بک انتظامیہ نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کا فوری طور پر پاکستان میں دفتر کھولنے کا ارادہ نہیں۔

فیس بک کے ایک عہدیدار نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ فیس بک دیگر کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے مگر کمپنی کا فوری طور پر پاکستان میں دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

فیس بک نے پاکستان میں فوری طور پر ویڈیوز کے عوض پیسے دینے کے سلسلے شروع کیے جانے سے متعلق بھی کوئی جواب نہیں دیا تاہم کہا کہ پاکستانی کانٹینٹ کریئٹرز کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کے دنیا کے درجنوں ممالک میں دفاتر نہیں ہیں تاہم فیس بک کے بڑی مارکیٹوں میں شمار ہونے والے ممالک میں دفاتر موجود ہیں۔

فیس بک کے زیادہ تر دفاتر یورپ و امریکی ممالک میں ہیں تام افریقہ اور ایشیا میں بھی فیس بک کے دفاتر موجود ہیں۔

فیس بک کے براعظم ایشیا میں مجموعی طور پر 18 دفاتر ہیں، جو نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان، انڈونیشیا، سنگاپور، فلپائن، چین، تائیوان، ملائیشیا، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور بھارت میں موجود ہیں۔

حیران کن طور پر فیس بک کے پڑوسی ملک بھارت میں 5 دفاتر ہیں جو کہ ممبئی، دہلی، بنگلورو، حیدرآباد اور گڑگاؤں میں موجود ہیں۔