کووڈ سے بچاؤ کی تدابیر سے بچوں کے دیگر امراض کی شرح میں بھی کمی

04 جون 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہاتھوں کو زیادہ دھونے اور چیزوں کو صاف رکھنا کووڈ 19 سے تحفظ فراہم کرنے کے ذرائع قرار دیئے گئے تھے۔

مگر ان احتیاطی تدابیر کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں بچوں کے مختلف امراض جیسے چکن پوکس، معدے کے وائرسز اور گلے کی تکلیف کی شرح میں بھی کمی آئی۔

فاکس نیوز کی رپورٹ میں طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کووڈ ویکسینیشن کی شرح بڑھنے کے بعد زندگی معمول پر آرہی ہے، مگر لوگوں کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ اس وبا کے دوران اپنائی جانے والی کچھ احتیاطی تدابیر کو اپنائے رکھیں۔

ماریکا کے چلڈرنز مرسی ہاسپٹل کے بچوں کے امراض کے ماہر رانا ایلفیگلے نے کہا کہ ہم نے بچوں کے امراض کی شرح میں ڈرامائی کمی دیکھی ہے، گزشتہ موسم سرما میں ہمیں بیماریوں کی شرح میں اضافے کی توقع تھی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔

امریکا، یورپ اور چند دیگر ممالک میں موسم سرما کے دوران فلو کیسز کی شرح میں 99 فیصد تک می آءی اور امریکا میں فلو سے 2020-21 کے سیزن میں صرف ایک بچے کی ہلاکت ہوئی جو اس سے گزشتہ سال میں 199 تی۔

مگر ڈیٹا سے یہ بی معلوم ہوا کہ متعدد دیگر وائرسز اور بیکٹریا بھی کورونا وائرس کی وبا کے دوران غائب ہوگئے۔

سینٹرز فار ڈیزیز اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کے مطابق اس سال امریکا میں چکن پوکس کے کیسز کی تعداد میں وبا سے قبل کے مقابلے میں دوتہائی سے زیادہ کمی آئی ہے جبکہ جاپان اور یورپ میں بھی ایسی پی شرح دیکھنے میں آئی۔

گلے کی سوجن کے واقعات کا ڈیٹا امریکا میں اکٹا نہیں کیا جاتا مگر کچھ ممالک میں ہفتہ وار بنیادوں پر اس کا ڈیٹا اکٹا کیا جاتا ہے۔

جاپان اور برطانیہ میں مئی 2021 کے دوران بچوں میں اس مسئلے کے کیسز میں دوتہائی سے زیادہ کمی دیکنے میں آئی۔

اسی طرح چھوٹے بچوں میں ہیضے اور الٹیوں کا باعث بننے والے روٹا وائرس کے کیسز کی شرح بھی مختلف ممالک میں ڈرامائی حد تک کم رہی۔

مئی میں جاپان میں روٹا وائرس کے کیسز کی شرح 2019 کے مقابلے میں 99 فیصد تک کم رہی جبکہ جرمنی میں 95 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

جرمنی میں نورووائرس سے ہونے والے معدے کے امراض کی شرح میں 94 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی۔

جاپانی طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک ناقابل یقین صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں میں اس عرصے میں معدے کے امراض، کھانسی اور نزلہ زکام کے کیسز بھی بہت کم رہے، جس کی وجہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس کے خلاف اپنائے گئے اقدامات ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں