کراچی: کچرا کنڈی سے ریپ کے بعد قتل کی گئی بچی کی لاش برآمد

28 جولائ 2021
جناح ہسپتال کی پولیس سرجن کے مطابق بچی کے جسم میں زخم تھے— فائل فوٹو
جناح ہسپتال کی پولیس سرجن کے مطابق بچی کے جسم میں زخم تھے— فائل فوٹو

کراچی کے ضلع کورنگی کے علاقے زمان ٹاؤن سے لاپتا بچی کی تشدد زدہ لاش کچرا کنڈی سے برآمد کرلی گئی جبکہ حکام نے بتایا کہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کی لاش ان کے گھر کے قریب کچرا کنڈی سے تقریباً 8 گھنٹے تلاش کے بعد ملی تھی، جس کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں کارروائی کی اور درجن بھر مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: پی آئی بی کالونی میں کمسن بچی کا ریپ کے بعد قتل

ایس پی لانڈھی شاہنواز چاچڑ کا کہنا تھا کہ بچی کورنگی کے علاقے غوث پاک میں اپنے گھر سے رات کو تقریباً 9 بجے لاپتہ ہوگئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ والدین نے پولیس رات گئے تقریباً 12 بجے اطلاع دی اور بچی کی لاش کچرا کنڈی سے صبح 5 بجے ملی اور بچی کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی۔

بچی کی لاش کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے جناح پوسٹ میڈیکل سینٹر (جناح ہسپتال) منتقل کردیا گیا۔

جناح ہسپتال کی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ ‘بچی کے پوسٹ مارٹم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا ریپ کیا گیا اور بدفعلی کے بعد قتل کردیا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بچی کے سر اور پورے جسم کے علاوہ نازک اعضا پر کئی زخم تھے’ ۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ ‘ڈی این اے پروفائلنگ اور میچنگ کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں’ اور بچی کے کپڑے بھی سیل کر دیے گئے ہیں۔

ایس شاہنواز چاچڑ کا کہنا تھا کہ پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 10 سے 12 افراد کو تفتیش کی غرض سے حراست میں لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد کو اس لیے حراست میں لیا گیا ہے کیونکہ علاقے میں انہیں ‘خراب کردار’ کے باعث جانا جاتا ہے اور پولیس نے گراؤنڈ اور بند اسکولوں جیسے مشکوک مقامات میں بھی ممکنہ ثبوت اکھٹے کرنے کے لیے تلاشی لے رہی ہے۔

پولیس کی فارنزک ٹیموں بھی نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور ثبوت جمع کیے اور علاقے کی جیو فینسنگ بھی کی گئی تاکہ ملزمان کے حوالے سے ممکنہ شواہد ملیں۔

مزید پڑھیں: کراچی: 6 سالہ بچی کا ریپ کرنے والا 70 سالہ ملزم گرفتار

سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ علاقے کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ہے لیکن تفتیش میں ملزمان کے اشارے ملے ہیں جنہوں نے بچی کی لاش کچرہ کنڈی میں پھینکی اور وہاں تک رکشے میں آئے۔

میڈیا کو بچی کے والد نے بتایا کہ علاقے میں بجلی گئی ہوئی تھی اور ان کی بیٹی گھر کے باہر دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔

انہوں نے پولیس پر عدم تعاون کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ رات کو مقدمہ درج کروانے تھانے گئے تو پولیس اہلکاروں نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

قبل ازیں زمان ٹاؤن تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) عامر ملک نے کہا تھا کہ غوث پاک روڈ کی کچرا کنڈی سے ملنے والی بچی کی لاش کو جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ ملک میں بچوں بالخصوص بچیوں کے ریپ اور تشدد کے بعد قتل میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں بھی کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں 5 سالہ بچی لاپتا ہو گئی تھی اور دو دن بعد اس کی لاش محلے کی کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

بچی کے اغوا، زیادتی اور قتل سے اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اگلی صبح اس کی تدفین کے بعد یونیورسٹی روڈ پر احتجاج کیا تھا۔

جولائی 2020 میں سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے گاؤں بٹر ڈوگراں چننڈا میں دو افراد کے ہاتھوں گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی 8 سالہ بچی دوران علاج ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔

قبل ازیں جنوری 2018 میں قصور میں 6 سالہ زینب کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور بعدازاں ملزم کو پکڑ کر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں