نیب نے مالم جبہ کیس کے ملزمان کو کلین چٹ دے دی

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2021
یہ فیصلے نیب کے چیئرمین جاوید اقبال کی زیرصدارت بیورو کی ایگزیکٹو بورڈ اجلاس (ای بی ایم) میں ہوئے — فائل فوٹو: ڈان نیوز / ریڈیو پاکستان
یہ فیصلے نیب کے چیئرمین جاوید اقبال کی زیرصدارت بیورو کی ایگزیکٹو بورڈ اجلاس (ای بی ایم) میں ہوئے — فائل فوٹو: ڈان نیوز / ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو 275 ایکڑ پر مشتمل مالم جبہ اسکیئنگ چیئرلفٹ ریزورٹ کیس میں رواں سال مارچ میں پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کلین چٹ دے دی۔

دوسری جانب احتساب ادارے نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کے خلاف نئی تحقیقات کی منظوری دی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلے نیب کے چیئرمین جاوید اقبال کی زیر صدارت بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس (ای بی ایم) میں ہوئے۔

ای بی ایم کو بتایا گیا کہ سمن گروپ کی رٹ پٹیشن پر مالم جبہ کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جس کی سربراہی خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے کی۔

مزید پڑھیں: مالم جبہ اراضی کیس: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نیب سے کلین چٹ ملنے کا دعویٰ

ای بی ایم کمیٹی نے ٹینڈرنگ کے عمل میں کچھ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔

اجلاس کے بعد نیب ہیڈکوارٹرز کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ای بی ایم نے متعلقہ عہدیداروں کو سماعت کے بعد قانون کے مطابق محکمہ جاتی کارروائی کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری کو بے ضابطگیوں کا ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عدالت کی جانب سے کسی بھی قسم کا حکم امتناع جاری ہو تو کیس کو مجازی اتھارٹی کی منظوری کے بعد اٹھایا جاسکتا ہے۔

تاہم نیب کے ایک سینئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ بیورو نے خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اس کیس کو بند کردیا ہے کیونکہ اس معاملے میں کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملزم کے خلاف الزامات میں سے ایک الزام یہ ہے کہ قیمتی اراضی کے لیز کی مدت 15 سے بڑھا کر 30 سال کردی گئی، تاہم کمیٹی کی سفارشات میں بتایا گیا کہ اس توسیع کو خیبر پختونخوا کی کابینہ نے منظور کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مالم جبہ کیس: نیب نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو طلب کرلیا

عہدیدار نے بتایا کہ کمیٹی کو ٹینڈرنگ کے عمل میں چند بے ضابطگیاں ملیں لیکن یہ معاملہ نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور اسی وجہ سے اسے صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور الزام یہ ہے کہ سمن گروپ، جس فرم نے لیز حاصل کی تھی، کے پاس ریزورٹ چلانے کی صلاحیت نہیں تھی تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اس ادارے نے نہ صرف ہوٹل کی تعمیر اور ریزورٹ کی ترقی کو بروقت مکمل کیا بلکہ وہ اسے چلا بھی رہا تھا اور خیبر پختونخوا حکومت کو باقاعدگی سے کرایہ ادا کر رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'لہٰذا نیب کو معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے میں قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور اس وجہ سے اسے بند کردیا گیا ہے، تاہم اگر عدالت کی طرف سے کوئی حکم امتناع آیا تو نیب دوبارہ کیس اٹھائے گا۔

خیال رہے کہ 2018 میں جب کے پی کے وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نیب نے انہیں 'کلین چٹ' دے دی تھی تو احتساب ادارے نے فوری طور پر ردعمل دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دعویٰ سچ نہیں ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مالم جبہ اراضی کو والیِ سوات نے تحفے میں دیا تھا اور اراضی کو لیز پر دینے کا اقدام 2014 میں گیا تھا لیکن اس معاہدے میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا معلوم ہونے پر محکمہ جنگلات نے بعد میں اس لیز کو منسوخ کردیا تھا۔

وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے ایک خط میں دعویٰ کیا تھا کہ لیز کی مدت 33 سال اور اس کی توسیع کے لیے مزید 20 سال اس اشتہار میں اور منصوبے کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) میں بھی ذکر کیے گئے ہیں۔

ان ٹی او آر کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے 27 فروری 2014 کو منظور کیا تھا۔

اس کی بنیاد پر نجی پارٹیوں نے اس منصوبے کے حصول کے لیے اپنی بولی / تجاویز چیف سیکریٹری کے ذریعے نوٹیفائی کردہ کمیٹی کو پیش کیں۔

خط میں کہا گیا کہ یہ سمجھا جانا چاہیے کہ کمیٹی اور وزیر اعلیٰ نے لیز سے متعلق حکومت کی پالیسی کے باوجود موجودہ لیز کی مدت کو ایک خاص کیس کے طور پر طے کیا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ 'یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے نے 33 سال کے ابتدائی لیز کی مدت کے دوران سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی پیش کش کی، جس میں مزید توسیع کے لیے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا'۔

مزید پڑھیں: مالم جبہ اراضی کیس: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو کوئی کلین چٹ نہیں دی، نیب

دیگر اہم امور اٹھاتے ہوئے نیب کے اجلاس میں سید تجم الحسین کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی جن پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی ٹیسٹنگ کمپنی کے ذریعے جعلی بھرتیوں کے اشتہارات محکموں میں آسامیاں نہ ہونے کے باوجود شائع کرتے ہیں۔

نیب کے بیان میں کہا گیا کہ ملازمتوں کے جعلی اشتہاروں کے بہانے لوگوں کو بڑے پیمانے پر لوٹا جاتا ہے اور اُمیدواروں سے بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔

ای بی ایم نے مختلف شخصیات کے خلاف چار انکوائریز کی منظوری بھی دی جن میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور دیگر شامل ہیں جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے افسران و اہلکاروں اور دیگر، محکمہ آبپاشی اور ریونیو پشاور کے عہدیداروں اور دیگر کے خلاف دو انکوائریز کی بھی منظوری دی گئی۔

اس موقع پر نیب کے چیئرمین جاوید اقبال نے کہا کہ بیورو کی ترجیح میگا کرپشن کے کیسز، خاص طور پر شوگر، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس کیس، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے ان کی سربراہی میں اب تک بدعنوان عناصر سے براہ راست یا بالواسطہ 533 ارب روپے کی وصولی کی اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں تاجر برادری کی شراکت کو مناسب احترام دیا۔

بیوروکریسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور نیب نہ صرف بیوروکریٹس کا احترام کرتی ہے بلکہ ان کی خدمات کو بھی سراہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف احتساب عدالتوں میں 1300 ارب روپے کے 1273 ریفرنسز زیر سماعت ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں