وزیر خارجہ کا اقوام متحدہ کو خط، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیرقانونی اقدامات سے آگاہ کیا

اپ ڈیٹ 05 اگست 2021
وزیر خارجہ کا یہ خط اگست 2019 سے پاکستان کے باقاعدہ رابطوں کا تسلسل ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیر خارجہ کا یہ خط اگست 2019 سے پاکستان کے باقاعدہ رابطوں کا تسلسل ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو خط لکھ کر ان کی توجہ بھارت کی جانب سے کشمیر کے متنازع خطے کے الحاق کے بعد وہاں نوآبادیاتی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے 'غیر قانونی' اقدامات کی جانب مبذول کروائی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان اقدامات میں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو مزید پسماندگی سے دوچار کرنے اور ان کا آزادی کا مطالبہ دبانے کے لیے آبادیاتی ڈھانچے اور انتخابی حدود میں تبدیلی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے اس قسم کے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین بشمول سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں اور حقیقت میں، قانونی اور مادی طور پر، کالعدم اور باطل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں مزید تقسیم کے حوالے سے پاکستان کا اقوام متحدہ کے رہنماؤں کو خط

شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے فروغ اور مالی اعانت میں بھارت کے کردار کی جانب نشاندہی کی جس میں لاہور میں ہونے والا حالیہ دھماکا بھی شامل ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ بھارت سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد اور تخریبی مہم بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ وزیر خارجہ کا یہ خط اگست 2019 سے پاکستان کے باقاعدہ رابطوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد اقوامِ متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں سنگین صورتحال سے آگاہ کرنا اور سلامتی کونسل کو اس کی قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پُرامن اور منصفانہ حل نکالنے سے متعلق یاد دہپانی کروانا ہے۔

ادھر اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے حوالے سے دوسرا سال مکمل ہونے پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی قیمت پر بھارت سے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔

مزید پڑھیں: اراکین یورپی پارلیمنٹ کا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر کارروائی پر زور

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان اپنی توجہ جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت کی جانب مرکوز کرنا چاہتا ہے، ہم بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن کشمیریوں کی قیمت پر نہیں'۔

خیال رہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جغرافیائی معیشت کی جانب پیراڈائم شفٹ رواں سال اس وقت سامنے آیا تھا جب پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی بحال کی گئی تھی'۔

تاہم معاملات فوراً ہی رک گئے تھے کیوں کہ بھارت 5 اگست کے اقدامات واپس لے کر کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے اقدامات اٹھانے میں ناکام ہوگیا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے بھارت سے مطالبہ دہرایا کہ وہ اپنے یکطرفہ اقدامات، جبر اور ریاستی دہشت گردی کے تمام متعلقہ اقدامات کو واپس لے۔

او آئی سی وفد

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کمیشن برائے آزاد اور مستقل انسانی حقوق کے 12 اراکین پر مشتمل وفد زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے لائن آف کنٹرول کا دورہ کرے گا۔

اس ضمن میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئی پی ایچ آر سی وفد 4 سے 9 اگست کے دوران مظفر آباد اور ایل او سی جائے گا اور کشمیری قیادت، مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین اور بھارتی مظالم کا نشانہ بننے والے شہریوں سے ملاقات کرے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں