امریکا باصلاحیت افغانوں کا انخلا بند کرے، طالبان

اپ ڈیٹ 25 اگست 2021
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

طالبان نے کابل ایئرپورٹ پر ملک سے باہر جانے کے لیے موجود لوگوں کو واپس اپنے گھروں پر جانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں اور امریکا، افغانستان کے مقامی باصلاحیت اور ماہرین کا انخلا بند کرے۔

افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ملک کے مرکزی دارالحکومت کابل میں اپنی دوسری پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ‘ایئرپورٹ میں موجود ہجوم واپس گھروں کو جاسکتا ہے، ہم ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں’۔

مزید پڑھیں: سی آئی اے سربراہ کی ملا عبدالغنی برادر سے کابل میں خفیہ ملاقات

اے ایف پی کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا باصلاحیت افغانوں کا انخلا بند کرے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انخلا کے دوران انجینئروں اور ڈاکٹروں جیسے افغان ماہرین کو باہر لے جا رہے ہیں اور ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل روک دیں۔

خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ میڈیا نے کام شروع کردیا ہے اور میڈیا کی آزادی میں بہتری آرہی ہے۔

ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی تنظیم کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم اپنی سرزمین ہمسایہ یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، اس حوالے سے قوانین ہوں گے، جس کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔

'امریکی انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہیں ہوگی'

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے 31 اگست تک انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع سے اتفاق نہیں کیا تھا کیونکہ وہ مقررہ تاریخ تک انخلا مکمل کرنا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جہاز اور ایئرپورٹ ہیں، انہیں اپنے شہریوں اور کنٹریکٹرز کو یہاں سے نکالنا چاہیے۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ انتقام کے لیے لوگوں کی کوئی فہرست نہیں بنی، ‘ہم تمام چیزیں ماضی میں ہی بھول چکے ہیں’۔

طالبان کے ترجمان نے ان رپورٹس کی تردید کی کہ انتقامی کارروائیوں کے لیے گھر گھر جاکر تلاشی لی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان دیگر ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ غیرملکی سفارت خانے بدستور کھلے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنج شیر کے مسائل کا حل بھی مذاکرات کے ذریعے نکالنے کے خواہاں ہیں جہاں سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کے حامی فورسز طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

'سی آئی اے سربراہ کی ملاقات کی تصدیق نہیں کرسکتے'

سی آئی اے کے سربراہ کی ملا عبدالغنی برادر سے کابل میں خفیہ ملاقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے لیکن امریکا کا سفارت خانہ یہاں موجود ہے اور سفارتی سطح پر ملاقاتوں کی اجازت ہے، سیاسی ونگ سفارتکاروں سے ملاقاتیں کرتا ہے اور اس میں امریکی سفارت خانہ بھی شامل ہے۔

قبل ازیں واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ ولیم برنس نے طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر سے کابل میں خفیہ ملاقات کی اور یہ ملاقات پیر کو ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: شیخ الحدیث ہیبت اللہ زندہ ہیں، آنے والے نظام کا حصہ ہوں گے، ترجمان طالبان

ولیم برنس امریکی صدر جو بائیڈن کے انتہائی تجربہ کار سفارت کاروں میں سے ایک ہیں جبکہ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ کے منصب پر رہنے والے عبدالغنی برادر کابل میں اقتدار سنبھالنے والی حکومت کے اعلیٰ رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

سی آئی اے کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو اس ملاقات کی تصدیق نہیں کی لیکن کہا کہ ایجنسی اپنے ڈائریکٹر کے سفری امور پر کبھی بات نہیں کرتی، واشنگٹن پوسٹ نے اس ملاقات کے لیے جن گمنام امریکی ذرائع کا حوالہ دیا ہے، اس ذریعے نے یہ بیان نہیں کیا کہ طالبان کے شریک بانی اور سی آئی اے کے سربراہ کے درمیان ملاقات میں کیا بات چیت ہوئی۔

'سرکاری دفاتر میں خواتین کی واپسی کیلئے سازگار سیکیورٹی کے منتظر'

ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اصل مسئلہ سیکیورٹی ہے، ہم اپنی بہنوں کو وزارتوں میں جانے کے لیے مشکلات سے دوچار نہیں دیکھنا چاہتے اور ہم ان کی بحفاظت واپسی کے لیے حالات سازگار ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر مسائل ہیں اور ہم میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محفوظ فاصلے پر رہیں اور ویڈیو بنانے کے لیے محفوظ مقام کا انتخاب کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ترکی، ترک حکومت اور عوام کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتے ہیں، افغانستان میں موجود ترک فوجیوں کے حوالے سے جہاں تک بات ہے تو ایک دفعہ جب انخلا کا عمل مکمل ہوگا تو ایئرپورٹ کی سیکیورٹی ہم خود کریں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں