کورونا وائرس کے ماخذ کی رپورٹ: ‘قربانی کا بکرا بنانے پر’ چین کی امریکا پر تنقید

اپ ڈیٹ 26 اگست 2021
چینی عہدیدار نے امریکی لیبارٹریز کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا—فائل فوٹو: رائٹرز
چینی عہدیدار نے امریکی لیبارٹریز کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا—فائل فوٹو: رائٹرز

چین نے کورونا وائرس کے ماخذ کاسراغ لگانے کی کوششوں کو 'سیاست زدہ' کرنے پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ساتھ ہی امریکی انٹیلیجنس رپورٹ کے اجرا سے قبل بغیر کسی ثبوت کے امریکی لیبارٹریز کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

امریکی رپورٹ کا مقصد انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان اس تنازع کو حل کرنا ہے جس میں کورونا وائرس نمودار ہونے کے بارے میں مختلف نظریات پر غور کیا گیا جس میں چینی لیبارٹریز سے متعلق ایک مسترد شدہ نظریہ بھی شامل ہے۔

چینی وزارت خارجہ میں اسلحے کی روک تھام کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل فو کونگ نے ایک بریفنگ میں کہا کہ ’چین کو قربانی کا بکرا بنانے سے امریکا صاف نہیں ہوسکتا‘۔

یہ بھی پڑھیں: نیا کورونا وائرس لیبارٹری سے نہیں کسی جانور سے پھیلا، عالمی ادارہ صحت

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے رپورٹرز کوبتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو اس خفیہ رپورٹ کی نقل موصول ہوگئی ہے اور اس پر انہیں بریفنگ بھی دی گئی۔

پریس سیکریٹری نے یہ بھی کہا تھا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی اس رپورٹ کا عوامی ورژن تیار کرنے کے لیے ’تیزی سے کام‘ کررہی ہے البتہ انہوں نے اس کے اجرا کا وقت نہیں بتایا۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ چین سے اہم زمینی معلومات اکٹھا کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کو روکنے کے بعد وہ اس جائزے کے کسی حتمی نتیجے کی توقع نہیں کرتے۔

چین کہہ چکا ہے کہ لیبارٹری سے وائرس کا اخراج خارج از امکان ہے، ساتھ ہی اس نے ووہان کی لیب سے کورونا وائرس کے فرار ہونے کے نظریے کا مذاق بھی اڑایا تھا، ووہان وہ شہر ہے جہاں سال 2019 کے اواخر میں سب سے پہلے وائرس نمودار ہوا۔

مزید پڑھیں:چین نے وبا سے متعلق معلومات ڈبلیو ایچ او سے چھپائی، ریکارڈنگ میں انکشاف

اس کے بجائے بیجنگ نے کہا تھا کہ وائرس سال 2019 میں امریکی ریاست میری لینڈ میں امریکی فوج کے فورٹ ڈیٹرک اڈے سے نکلا تھا۔

چینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ۔اگر امریکا اس کے درست مفروضہ ہونے پر اصرار کرتا ہے تو یہ اس وقت منصفانہ ہوگا کہ وہ اپنا بھی حصہ ڈالے اور اپنی لیبز کی تحقیقات کی دعوت دے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چین غلط معلومات پھیلانے مہم میں شامل نہیں ہے۔

قبل ازیں اقوامِ متحدہ کے لیے چین کے مندوب نے عالمی ادارہ صحت سے امریکی لیب کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

رواں برس کے اوائل میں ڈبلیو ایچ اور اور چین کی مشترکہ ٹیم نے ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کا دورہ کیا تھا لیکن امریکا نے کہا تھا کہ اسے تحقیقات کے لیے دی گئی رسائی کے حوالے سے تحفظات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چین نے کورونا وائرس پر تحقیقات کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی، ڈبلیو ایچ او

ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ ناقابل تردید بات ہےکہ عالمی وبا سب سے پہلے چین میں نمودار ہوئی لیکن پھر بھی چین عالمی برادری کو مطلوبہ رسائی دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔

ساتھ ہی عہدیدار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر مستقبل میں امریکا سے کوئی وبا پھوٹتی ہے تو وہ ایک تیز اور شفاف جائزے پر اصرار کرے گا۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس دسمبر 2019 میں سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں نمودار ہوا تھا جس کے بعد اس کے ماخذ سے متعلق مختلف نظریات پیش کیے جاچکے ہیں جس میں یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کا نظریہ بھی شامل ہے۔۔

اس کے علاوہ چینی لیب سے وائرس کے پھیلاؤ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ٹیم نے ووہان لیب اور ووہان مارکیٹ کا دورہ بھی کیا تھا جس کے بعد لیب سے وائرس خارج ہونے کے نظریے کو غلط قرار دے دیا تھا۔

ضرور پڑھیں

رُوداد ایک مقدمے کی

رُوداد ایک مقدمے کی

وہ سب کچھ بیج کر کینیڈا چلے گئے جہاں وہ اپنی نئی بیوی کے ساتھ مل کر ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہیں اور کوئی بھی بات نہیں بھولتے۔

تبصرے (0) بند ہیں