بلوچستان اسمبلی: ناراض اراکین نے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست جمع کرادی

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2021
وزیراعلیٰ بلوچستان نے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر سے ملاقات کی—فوٹو: غالب نہاد
وزیراعلیٰ بلوچستان نے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر سے ملاقات کی—فوٹو: غالب نہاد

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ناراض اراکین نے وزیراعلیٰ جام کمال علیانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرادی، جس کے بعد چند مہینوں سے جاری بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔

وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد میں 14 اراکین صوبائی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں اور درخواست بلوچستان اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: وزرا کے استعفوں کے بعد بلوچستان میں سیاسی بحران شدت اختیار کرگیا

تحریک عدم اعتماد جمع کراتے وقت اراکین صوبائی اسمبلی سعید ہاشمی، جان جمالی، میر ظہور احمد بلیدی، اسد بلوچ، نصیب اللہ مری، سردار عبدالرحمٰن کھیتران سمیت دیگر اراکین اسمبلی میں موجود تھے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف اکثریت نے عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے، اس لیے گورنر بلوچستان جلد اسمبلی اجلاس بلائیں تاکہ تحریک عدم اعتماد پیش کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو پھر تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ خود استعفیٰ دے دیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنما اسد بلوچ نے کہا کہ ایک اصول ہوتا ہے کہ ایک فرد کو اجتماعیت کے لیے قربان کیا جاتا ہے، ہم ناراض گروپ نہیں بلکہ متحدہ گروپ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی بحران سے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، جام کمال بازی ہار گئے ہیں اب بس کریں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین کا وزیراعلیٰ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ، کل تک کی مہلت

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی نصیب اللہ مری نے کہا کہ پی ٹی آئی بلوچستان میں پہلے دن سے ہی اتحادی ہے اور اب بھی ہے لیکن جام کمال سے گزارش ہے کہ وہ فوری استعفیٰ دیں۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند سے ملاقات کی، جہاں صوبے کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سے قبل 5 اکتوبر کو بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین صوبائی اسمبلی، وزرا اور اتحادیوں نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال علیانی کو مستعفی ہونے کے لیے ایک دن کی مہلت دی تھی۔

صوبائی اراکین اسمبلی کی جانب سے یہ مطالبہ جام کمال کی جانب سے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے استعفے کے بعد سامنے آیا تھا، جام کمال کو چند صوبائی وزرا اور پارٹی کے اراکین اسمبلی کی مخالفت کا سامنا تھا اور وہ وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ 14 ستمبر کو اپوزیشن کے 16 اراکین صوبائی اسمبلی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی لیکن غلطی کے باعث گورنر بلوچستان نے س درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا، جام کمال خان کی وضاحت

خیال رہے کہ بلوچستان میں سیاسی بحران پہلی مرتبہ رواں برس جون میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اپوزیشن نے صوبائی اسمبلی کے باہر جام کمال کی قیادت میں کام کرنے والی حکومت کے خلاف کئی دنوں تک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جو ان کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کے حوالے سے تھا۔

احتجاج بعد میں شدت اختیار کر گیا تھا اور پولیس نے اس واقعے کے حوالے سے اپوزیشن کے 17 اراکین کو مقدمے میں نامزد کردیا تھا۔

بعد ازاں اپوزیشن نے جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروائی تھی-

ڈان نے اس وقت رپورٹ دی تھی کہ جام کمال کو پارٹی کے اندر بھی بعض معاملات میں مخالفت کا سامنا ہے، خاص کر بھرتیوں اور تبادلوں پر وزرا کے اختیارات اور ان کو ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ صوبائی وزیر بلدیات سردار محمد صالح بھوتانی نے وزیراعلیٰ سے اختلافات پر استعفیٰ دے دیا تھا اور دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے بھی ہائر ایجوکیشن کی وزارت سے استعفیٰ دیا تھا اور صوبائی اسمبلی میں وزیراعلیٰ سے اختلافات پر تلخ تقریر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے باہر ہنگامہ آرائی

بلوچستان عوامی پارٹی میں اختلافات کے باعث جام کمال نے گزشتہ ہفتے پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا، جہاں صوبے میں سیاسی بحران پیدا ہونے کے شدید خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اور حالات اس نہج پر ناراض اراکین کی وجہ سے پہنچے اور جام کمال سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔

آئین پاکستان کے مطابق تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے دو ہفتے کے اندر گورنر کو اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا ہوتا ہے، تاہم تحریک کے لیے ایوان درخواست پر 20 فیصد اراکین کا دستخط ہونا ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں